غزہ – اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ غزہ میں موجود آخری اسرائیلی یرغمالی، ماسٹر سارجنٹ ران گویلی کی لاش برآمد کر لی گئی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان کے مطابق نیشنل سینٹر آف فارنزک میڈیسن اور اسرائیلی پولیس کی جانب سے لاش کی شناخت کی باضابطہ تصدیق کر دی گئی ہے، جس کے بعد غزہ لے جائے گئے تمام اسرائیلی یرغمالی زندہ یا مردہ حالت میں اسرائیل واپس آ چکے ہیں۔
ایسٹ زون پولیس نے چھ رکنی ڈکیٹ گینگ گرفتار کر لیا
آخری اسرائیلی یرغمالی کی لاش کی برآمدگی کے بعد گزشتہ سال اکتوبر میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
اس سے قبل فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ثالثوں کو آخری قیدی کی لاش کے ممکنہ مقام سے متعلق تمام تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں، تاکہ امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت لاش اسرائیل کے حوالے کی جا سکے۔
اسرائیلی فوج نے اتوار کی شام اس بات کی بھی تصدیق کی تھی کہ شمالی غزہ کے ایک قبرستان میں ران گویلی کی لاش کی تلاش جاری ہے، جس کے بعد اب لاش کی برآمدگی عمل میں آ گئی ہے۔
ادھر حماس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یرغمالی کی لاش کی برآمدگی جنگ بندی معاہدے پر حماس کے مکمل عمل درآمد کا ثبوت ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ تنظیم معاہدے کے تمام پہلوؤں پر عمل جاری رکھے گی، جن میں غزہ کے انتظام کے لیے قائم قومی کمیٹی کو سہولت فراہم کرنا اور اس کی کامیابی کو یقینی بنانا شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ آخری یرغمالی کی لاش برآمد کرنے کے لیے جاری فوجی کارروائی مکمل ہونے کے بعد غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ دوبارہ کھول دی جائے گی۔
