گل پلازہ آتشزدگی: 60 افراد لاپتہ، 6 جاں بحق، وزیراعلیٰ سندھ کا جائے وقوعہ کا دورہ

کراچی (18 جنوری) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کی شام ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے ہولناک واقعے کی جائے وقوعہ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ریسکیو اور فائر فائٹنگ آپریشنز کا تفصیلی جائزہ لیا اور میڈیا کو تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔

گل پلازہ آتشزدگی: متاثرین کو معاوضہ دیا جائے گا، ریسکیو اولین ترجیح ہے، سعید غنی

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گل پلازہ کراچی کا ایک بڑا تجارتی مرکز ہے، جہاں بالخصوص شادیوں کے سیزن میں بڑی تعداد میں شہری خریداری کے لیے آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کی اطلاع رات 10 بجے کے بعد موصول ہوئی، جس پر میونسپل حکام نے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا اور انہیں بھی صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پہلا فائر ٹینڈر رات 10 بج کر 27 منٹ پر جائے وقوعہ پر پہنچا اور بغیر کسی تاخیر کے آگ بجھانے کا عمل شروع کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آگ پر قابو پانے کے لیے وسیع پیمانے پر آپریشن کیا گیا، جس میں مجموعی طور پر 26 فائر ٹینڈرز، 4 اسنارکلز اور 10 واٹر باؤزرز نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ریسکیو کاموں میں کے ایم سی کے ساتھ ساتھ پاکستان نیوی اور کے پی ٹی نے اسنارکل فراہم کیے، جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے بھی تین فائر فائٹنگ مشینیں جائے وقوعہ پر روانہ کیں، جس سے آپریشن کو مزید مؤثر بنایا گیا۔

جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کے ایم سی کے ایک فائر فائٹر سمیت 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 22 زخمیوں کو فوری طور پر سول اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں طبی امداد کے بعد انہیں گھر روانہ کر دیا گیا ہے۔

تاہم وزیراعلیٰ نے صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اب بھی 58 سے 60 افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں کہ تمام لاپتہ افراد بحفاظت زندہ مل جائیں۔

عمارت کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ متاثرہ عمارت بیسمنٹ، گراؤنڈ فلور اور تین منزلوں پر مشتمل تھی، جس میں ایک ہزار سے زائد دکانیں قائم تھیں۔ انہوں نے آگ لگنے کے حوالے سے قیاس آرائیوں سے گریز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ حتمی نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا، تاہم ابتدائی رپورٹس کے مطابق آگ ممکنہ طور پر ایک دکان میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی، جبکہ آتش گیر مواد کی موجودگی کے سبب آگ تیزی سے پھیل گئی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ آپریشن کے دوران فائر فائٹرز کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ عمارت کی ساخت اور رسائی کے محدود راستوں کے باعث اندر داخل ہونا مشکل تھا، جس کے نتیجے میں نقصان میں اضافہ ہوا۔

دورے کے موقع پر وزیر محنت سعید غنی اور کمشنر کراچی حسن نقوی نے وزیراعلیٰ سندھ کو واقعے اور جاری ریسکیو کارروائیوں سے متعلق بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے متاثرہ دکانداروں اور اہل خانہ سے ملاقات کی، ان سے ہمدردی کا اظہار کیا اور انہیں ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت سندھ واقعے کی مکمل تحقیقات کرے گی اور مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے، جبکہ متاثرین کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔

63 / 100 SEO Score

One thought on “گل پلازہ آتشزدگی: 60 افراد لاپتہ، 6 جاں بحق، وزیراعلیٰ سندھ کا جائے وقوعہ کا دورہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!