کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا منظم نیٹ ورک بے نقاب

کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کے ضلع ویسٹ میں غیر قانونی تعمیرات کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جہاں سرجانی ٹاؤن، بلدیہ ٹاؤن اور اورنگی ٹاؤن کے مختلف علاقوں میں رہائشی پلاٹس پر کمرشل عمارتیں، شادی ہالز، بنکوئٹس اور دیگر تعمیرات کھلے عام کی جا رہی ہیں۔ ان تعمیرات کے باعث نہ صرف شہر کا انفراسٹرکچر شدید متاثر ہو رہا ہے بلکہ شہریوں کی جان و مال کو بھی خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان اور انڈونیشیا فضائیہ کے تعاون کو مضبوط بنانے پر متفق

ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے ڈپٹی ڈائریکٹر ریاض مُلا کے کردار پر متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ضلع ویسٹ میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے ایک منظم نظام قائم ہو چکا ہے، جس میں قواعد و ضوابط کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ 10 دسمبر 2025 کو ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز آف پاکستان (ABAD) نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا تھا، جس میں ڈپٹی ڈائریکٹر SBCA ریاض مُلا کے خلاف بلیک میلنگ، غیر قانونی مطالبات اور ہراسانی جیسے سنگین الزامات عائد کیے گئے تھے۔ ABAD کے چیئرمین محمد حسن بکش کے مطابق ان الزامات سے متعلق تحریری شکایات اور شواہد بھی موجود ہیں۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ خط کے بعد دباؤ بڑھنے پر DG SBCA کی جانب سے ریاض مُلا کو معطل کیا گیا، تاہم کسی باقاعدہ انکوائری کے بغیر چند ہی دنوں بعد انہیں دوبارہ ضلع ویسٹ میں تعینات کر دیا گیا، جس پر شفافیت اور احتساب کے عمل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب SBCA میں 253 افسران کو شوکاز نوٹس جاری کیے جانے کے معاملے میں بھی ریاض مُلا کا نام سامنے آیا ہے۔ یہ شوکاز نوٹس ایڈیشنل ڈائریکٹر ویجیلنس فرحان قیصر کی رپورٹ کی بنیاد پر جاری کیے گئے، تاہم تاحال کسی حتمی کارروائی کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جو افراد یا افسران غیر قانونی تعمیرات یا مبینہ کرپشن کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں، انہیں دباؤ یا قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کے باعث بیشتر شکایات آگے نہیں بڑھ پاتیں۔

شہری حلقوں اور ماہرینِ شہری منصوبہ بندی نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع ویسٹ میں ہونے والی تمام غیر قانونی تعمیرات کی غیر جانبدار تحقیقات کی جائیں، جبکہ متعلقہ افسران کے اثاثوں اور گزشتہ دس سالہ تعیناتی ریکارڈ کا بھی جائزہ لیا جائے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے وزیرِ اعلیٰ سندھ، وزیرِ بلدیات، نیب کراچی اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لے کر شفاف تحقیقات یقینی بنائیں تاکہ کراچی کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

WhatsApp Image 2026 01 13 at 1.33.01 AM 1 WhatsApp Image 2026 01 13 at 1.33.01 AM 2 WhatsApp Image 2026 01 13 at 1.33.02 AM 1 WhatsApp Image 2026 01 13 at 1.33.02 AM

68 / 100 SEO Score

One thought on “کراچی میں غیر قانونی تعمیرات کا منظم نیٹ ورک بے نقاب

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!