کراچی (اسٹاف رپورٹر): سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ حکومتِ سندھ جمہوری اقدار پر مکمل یقین رکھتی ہے اور صوبے میں فری موومنٹ کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے سندھ آمد پر انہیں خوش آمدید کہا جائے گا اور صوبے میں سیاسی و سرکاری سرگرمیاں انجام دینے کی مکمل آزادی حاصل ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا اجلاس
ایک بیان اور نجی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کے پی کو مکمل سکیورٹی اور پروٹوکول فراہم کیا جائے گا، اور خوش آمدید کہنے کے لیے حکومتِ سندھ کا نمائندہ بھی ایئرپورٹ پر موجود ہوگا۔ حکومت کی خواہش ہے کہ وزیر اعلیٰ کے دورے کے پروگرام سے آگاہ کیا جائے اور اگر کسی جلسے یا تقریب کے لیے گراؤنڈ درکار ہوگا تو اسے بھی فراہم کیا جائے گا، بشرطیکہ کوئی سرگرمی قانون کی خلاف ورزی یا عوام کے لیے تکلیف کا باعث نہ بنے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات موجود ہیں، تاہم جمہوری معاشروں میں اختلافِ رائے اور تنقید کو برداشت کیا جاتا ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ عمران خان کے دورِ حکومت میں تنقید کے بعد نیب کے نوٹسز اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوتا تھا، مگر سندھ میں ایسا طرزِ عمل اختیار نہیں کیا جائے گا اور تنقید کو سیاسی اخلاقیات کے دائرے میں برداشت کیا جائے گا۔
انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حوالے سے عمران خان کے مؤقف پر تنقید کی اور کہا کہ طالبان کے حق میں عمران خان کا بیانیہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ شرجیل میمن نے کہا کہ یہی عناصر خیبرپختونخوا میں معصوم شہریوں کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں اور پی ٹی آئی کا ان کے لیے نرم گوشہ ہمیشہ موجود رہا، جس پر پیپلز پارٹی کو شدید اختلاف ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اسی تناظر میں عمران خان کو ’’طالبان خان‘‘ کہتے رہے ہیں کیونکہ ان کی پالیسیاں انتہاپسند عناصر کے حق میں رہی ہیں۔
شرجیل میمن نے زور دیا کہ خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ ایسے عناصر کو سہولت دینا جو شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔
