کراچی (اسٹاف رپورٹر): وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا جائزہ اجلاس سینٹرل سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں صوبائی وزراء شرجیل انعام میمن، سعید غنی، سید ناصر حسین شاہ، جام خان شورو، ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ نجم شاہ، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سینٹرل پولیس آفس میں اہم اجلاس
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ کو ترقیاتی کارکردگی، جاری منصوبوں، ادارہ جاتی اصلاحات اور شہری سہولیات میں بہتری پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سندھ کا ترقیاتی بجٹ 2008 میں 55 ارب روپے سے بڑھ کر 2025 میں 1,018 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے اور اب تک 13 ہزار سے زائد منصوبے شروع کیے گئے جن میں سے 9,193 مکمل ہو چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور معیار یقینی بنایا جائے، ناقص کام اور غفلت برداشت نہیں کی جائے گی، اور عوامی پیسے کے زمینی نتائج نظر آنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ محکمے نئے اعلانات سے پہلے جاری منصوبوں کی تکمیل پر توجہ دیں اور سہ ماہی کارکردگی رپورٹس وقت پر پیش کریں۔
اجلاس میں سندھ فلڈ ایمرجنسی ری ہیبلیٹیشن پراجیکٹ، سیلاب متاثرہ سڑکوں کی بحالی، پانی اور نکاسی آب اسکیموں کی بحالی، کراچی نیبرہوڈ امپروومنٹ پراجیکٹ اور جیکب آباد میں پانی، سیوریج اور کچرا نظام کی بہتری پر بھی پیش رفت سے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت کی کہ ہر منصوبے کی پائیداری، مؤثر آپریشن اور مرمت کو یقینی بنایا جائے، ڈیجیٹلائزیشن اور تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کے نظام کو بہتر بنایا جائے، شہری ماسٹر پلانز پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے اور غیر منصوبہ بند ترقی و سرکاری زمین پر قبضے روکیں۔
انہوں نے کہا کہ منصوبوں کا مقصد صرف اعلانات نہیں بلکہ عوامی خدمات اور معیشت میں بہتری ہے، اور ہر منصوبہ عوام کی زندگی میں واضح بہتری لائے۔
