امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر فوجی حملے کی تصدیق کر دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹرتھ‘‘ پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کی قیادت کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی ہے۔
جوئے کی پروموشن کیس یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی فردِ جرم کے لیے طلب
ٹرمپ کے مطابق وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ وینزویلا کی صورتحال پر پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے پریس کانفرنس کریں گے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کے احکامات پر وینزویلا میں حملے کیے گئے، جن کے دوران دارالحکومت کاراکس میں کم از کم سات دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے گفتگو میں تصدیق کی ہے کہ امریکا وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کر رہا ہے۔
وینزویلا کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ امریکی حملے کاراکس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا ریاستوں میں ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔
وینزویلا حکومت نے امریکی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور ہم امریکی فوجی جارحیت کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں۔ حملوں کے بعد وینزویلا کے صدر نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔
ادھر روسی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا ہے اور صدر نے صدارتی محل چھوڑ دیا ہے۔ اسی تناظر میں کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کاراکس پر میزائل داغے جا رہے ہیں اور اس صورتحال پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔
