ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا بہت احترام کرتے ہیں اور پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کو قابلِ احترام اور بہترین قرار دیتے ہیں۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے فیلڈ مارشل اور وزیراعظم دونوں قابلِ تعریف شخصیات ہیں اور انہوں نے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ٹرمپ کے مطابق انہوں نے مختلف تنازعات میں مجموعی طور پر آٹھ جنگیں رکوائیں جن میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ بڑی جنگ بھی شامل تھی، جو ان کے بقول جوہری تصادم کی طرف بڑھ رہی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس دوران شدید کشیدگی کے باعث کئی فوجی طیارے بھی متاثر ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی اور امید ہے کہ ایران مذاکرات کی طرف آئے گا۔ ان کے مطابق ایران بات چیت چاہتا ہے تو براہ راست رابطہ کر سکتا ہے اور زیادہ تر معاملات فون پر بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ایران میں جن فریقین سے بات ہو رہی ہے ان میں کچھ قابلِ قبول ہیں جبکہ کچھ نہیں، تاہم امید ہے کہ ایران دانشمندی کا مظاہرہ کرے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے افزودہ یورینیم کا معاملہ مذاکرات کا حصہ ہے اور امریکہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ٹرمپ کے مطابق چین سے مکمل مایوسی نہیں لیکن وہ مزید تعمیری کردار ادا کر سکتا ہے۔
نیٹو کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کے معاملے میں نیٹو مکمل طور پر ساتھ نہیں تھا، تاہم جنگ کے بعد مختلف ممالک کے بیانات سامنے آئے جو اس وقت کی صورتحال سے مختلف تھے۔
