کراچی: وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار کی زیر صدارت محکمہ پولیس میں جاری ترقیاتی اسکیموں کی موجودہ صورتحال کا تفصیلی جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں آئی جی سندھ نے اے ڈی پی کے تحت جاری اسکیموں کی موجودہ صورتحال، فنڈز کے اجراء اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بریفنگ دی۔
چاکیواڑہ پولیس کی ٹارگٹڈ کارروائی، 3 عادی جواری گرفتار
آئی جی سندھ نے کہا کہ متعدد اسکیمیں کئی سالوں سے طویل التواء کا شکار ہیں اور موجودہ ضروریات کے مطابق بعض اسکیمیں غیر ضروری ہو چکی ہیں۔ وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ غیر ضروری اسکیموں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے اور جاری اسکیموں کے لیے واضح ٹائم لائن سیٹ کی جائے تاکہ تکمیل کے قریب منصوبے جلد محکمہ پولیس کے حوالے کیے جا سکیں۔
وزیر داخلہ سندھ نے اجلاس میں پولیس بیرکس، تھانہ جات، واچ ٹاورز اور چوکیوں کی تعمیر پر ترجیحی بنیادوں پر کام کرنے، گریڈ 16 سے 20 تک کے افسران کے لیے چار مرحلوں پر مشتمل رہائشی اسکیم تیار کرنے اور کچے علاقوں میں مجوزہ پولیس اسٹیشنز کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔
مزید برآں، وومین پولیس اسٹیشنز اور ٹریننگ سینٹرز میں جاری ترقیاتی اسکیموں کو جلد مکمل کرنے کے اقدامات کی ہدایت دی گئی۔ وزیر داخلہ سندھ کا کہنا تھا کہ جتنی بہتر سہولتیں تربیتی اہلکاروں کو فراہم کی جائیں گی، اتنے ہی بہتر نتائج حاصل ہوں گے۔
اجلاس میں آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جیز کراچی، فنانس اینڈ ورکس، آپریشن، ٹریننگ، ڈی آئی جیز، اے آئی جیز، سپریٹینڈنگ انجینئر پولیس اور محکمہ داخلہ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔
