آصفہ بھٹو اور فریال تالپور کی گڑھی خدابخش میں بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری برسی پر سندھ اور آزاد کشمیر میں عام تعطیل

خاتونِ اول آصفہ بھٹو نے فریال تالپور کے ہمراہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری دی، فاتحہ خوانی کی اور پھول چڑھائے۔ اس موقع پر انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو، مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی قبروں پر بھی پھول رکھے۔
وزیراعظم کی ہدایت پر اعلیٰ حکومتی وفد بینظیر بھٹو کی برسی میں شرکت کرے گا

پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکرٹری سینیٹر وقار مہدی سمیت دیگر پارٹی رہنماؤں اور جیالوں نے بھی بے نظیر بھٹو اور بھٹو خاندان کی دیگر شخصیات کے مزارات پر حاضری دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا۔

دوسری جانب حکومتِ سندھ نے سابق وزیراعظم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے بھی آج آزاد کشمیر میں عام تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔

محترمہ بے نظیر بھٹو کی سوانحِ حیات قربانی، جدوجہد اور استقامت کی روشن مثال ہے۔ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی، دو بھائی قتل ہوئے، بدترین آمریتوں اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑا، مگر وہ جمہوری جدوجہد سے پیچھے نہ ہٹیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں دخترِ مشرق کہا جاتا ہے اور وہ عالمِ اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں۔

بینظیر بھٹو 21 جون 1953 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کونوینٹ آف جیزز اور کراچی گرامر اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، جبکہ ہارورڈ اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور بین الاقوامی قوانین میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دونوں بیٹوں کے بجائے بینظیر بھٹو کو سیاسی جانشین نامزد کیا، جسے وقت نے درست ثابت کیا۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دوران وہ بیرونِ ملک رہ کر جمہوریت کے لیے آواز بلند کرتی رہیں اور اپریل 1986 میں وطن واپسی پر عوام نے تاریخی استقبال کیا۔

1988 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد بینظیر بھٹو مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں، تاہم 18 ماہ بعد ان کی حکومت ختم کر دی گئی۔ نومبر 1993 میں وہ دوسری بار وزیراعظم بنیں، لیکن 1996 میں ایک بار پھر ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔

انتقامی کارروائیوں کے بعد جلاوطنی اختیار کرنے والی بینظیر بھٹو 2007 میں جان کے شدید خطرات کے باوجود پاکستان واپس آئیں۔ 18 اکتوبر 2007 کو کراچی میں ان کے استقبالی جلوس پر خودکش حملوں میں سینکڑوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے، مگر وہ عوامی رابطے سے پیچھے نہ ہٹیں۔

آخرکار 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسے سے واپسی پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ہو گئیں۔ انہیں لاڑکانہ کے گڑھی خدابخش میں اپنے والد اور بھائیوں کے پہلو میں سپردِ خاک کیا گیا۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “آصفہ بھٹو اور فریال تالپور کی گڑھی خدابخش میں بے نظیر بھٹو کے مزار پر حاضری برسی پر سندھ اور آزاد کشمیر میں عام تعطیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!