پی آئی اے کی نجکاری کھوئی ہوئی شان کی بحالی کا آغاز ہے عطا اللہ تارڑ

وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری قومی ادارے کی کھوئی ہوئی شان کی بحالی کے سفر کا آغاز ہے۔ انہوں نے پی آئی اے کی نجکاری کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بار بار نقصان میں جانے والے سرکاری اداروں کا بوجھ اب عوامی خزانے پر نہیں ڈالا جائے گا۔
صدرِ متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن زید النہیان 26 دسمبر کو سرکاری دورے پر پاکستان پہنچیں گے

بدھ کے روز مشیر برائے نجکاری محمد علی کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ حکومت مالی طور پر نقصان اٹھانے والے سرکاری اداروں کی نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری ایک کھلے، شفاف اور منظم طریقہ کار کے تحت مکمل کی گئی ہے۔

اس موقع پر مشیر برائے نجکاری محمد علی نے کہا کہ نجی ملکیت میں منتقلی کے بعد پی آئی اے کی سروس کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ نجی شعبے کے تحت ایسے تجارتی منصوبے زیادہ مؤثر انداز میں چلائے جاتے ہیں اور نئی سرمایہ کاری سے ایئر لائن کو جدید بنانے، نئے طیارے شامل کرنے اور موجودہ بیڑے کو اپ گریڈ کرنے میں مدد ملے گی۔

محمد علی نے نجکاری کے کامیاب انعقاد کا سہرا گزشتہ چھ ماہ کے دوران تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ کاوشوں کو دیا، جو وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر کی رہنمائی میں انجام پائیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ پی آئی اے کے رئیل اسٹیٹ اثاثے اس سودے میں شامل نہیں کیے گئے، جبکہ حکومت کو اس نجکاری سے 55 ارب روپے کا معاشی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ مشیر نجکاری کے مطابق پی آئی اے کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے بین الاقوامی لینڈنگ رائٹس ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت پی آئی اے 30 بین الاقوامی و علاقائی مقامات کے لیے پروازیں آپریٹ کر رہی ہے، جن کے لیے 18 طیارے سروس میں ہیں، جن میں 12 لیز پر جبکہ 6 ایئر لائن کی ملکیت ہیں۔ انہوں نے اس امر کی بھی تصدیق کی کہ 182 ارب روپے کی واجبات خریدار کو منتقل کر دی گئی ہیں۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “پی آئی اے کی نجکاری کھوئی ہوئی شان کی بحالی کا آغاز ہے عطا اللہ تارڑ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!