خودکش حملے کے بعد شامی چرچ میں کرسمس سے قبل دعائیہ اجتماع شہداء کو خراجِ عقیدت

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں واقع مار الیاس یونانی آرتھوڈوکس چرچ میں جون میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد کرسمس سے قبل ایک پُراثر دعائیہ اجتماع منعقد کیا گیا، جس میں سینکڑوں نمازیوں نے شرکت کی۔ حملے میں 25 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اجتماع کا مقصد شہداء کو یاد کرنا اور اپنے عقیدے کے ساتھ وابستگی کا اعادہ کرنا تھا۔
پی آئی اے کی نجکاری کھوئی ہوئی شان کی بحالی کا آغاز ہے عطا اللہ تارڑ

چرچ کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے، جبکہ چرچ کے صحن کی دیوار پر نیون لائٹس سے بنے کرسمس ٹری کی تصویر روشن کی گئی۔ اس درخت پر حملے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تصاویر آویزاں تھیں۔

ان تصاویر میں تین ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں چرچ انتظامیہ نے ہیرو قرار دیا ہے۔ ان افراد نے حملہ آور کو روکنے کی کوشش کی، جس کے باعث 22 جون کو اتوار کے روز ہونے والے حملے میں ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں جانی نقصان سے بچاؤ ممکن ہوا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے چرچ کے اندر فائرنگ کی اور پھر خودکش جیکٹ سے دھماکہ کر دیا، تاہم اس سے قبل بھائی بوٹروس، گرگیس بیچارا اور میلاد حداد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حملہ آور کو چرچ کے مرکزی حصے سے باہر دھکیل دیا۔

کرسمس ٹری لائٹنگ تقریب میں شریک میلاد حداد کے بھائی عماد حداد نے کہا کہ اگر یہ تینوں افراد بروقت مزاحمت نہ کرتے تو چرچ میں موجود تقریباً 400 افراد میں سے شاید کوئی بھی زندہ نہ بچتا۔ ان کا کہنا تھا کہ چرچ میں جمع ہونا امن، محبت اور ثابت قدمی کا پیغام ہے، اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم ہیں۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والے بوٹروس بیچارا کی اہلیہ تھانہ المسعود نے بتایا کہ دھماکے کے بعد وہ اپنے شوہر کو تلاش کرتی رہیں، مگر ان کی لاش مکمل حالت میں نہ مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ اس سانحے کے بعد ان کے لیے کوئی تہوار باقی نہیں رہا، تاہم وہ اس یقین سے تسلی پاتی ہیں کہ ان کے شوہر اور دیگر دو افراد اپنے عقیدے کی خاطر شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جدائی کا دکھ ناقابلِ بیان ہے، لیکن ایمان انہیں حوصلہ عطا کرتا ہے کہ ان قربانیوں نے دنیا کو امن اور محبت کا پیغام دیا۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “خودکش حملے کے بعد شامی چرچ میں کرسمس سے قبل دعائیہ اجتماع شہداء کو خراجِ عقیدت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!