اقوامِ متحدہ کے پانچ خصوصی ماہرین نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی، پہلگام حملے اور 7 مئی 2025 کو بھارت کی پاکستانی حدود میں کی گئی فوجی کارروائی کے حوالے سے جامع رپورٹ جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں بھارت کے اقدامات پر سخت اعتراضات اٹھائے گئے ہیں اور پاکستان کے موقف کی توثیق کی گئی ہے۔
شمالی وزیرستان: بٹالین ہیڈکوارٹر پر حملہ ناکام، چار دہشت گرد ہلاک
ماہرین نے پہلگام حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی اور غیر جانبدار و شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت نے 22 اپریل 2025 کے دہشت گرد حملے میں پاکستان کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس شواہد پیش نہیں کیے۔
رپورٹ کے مطابق 7 مئی کو بھارت نے پاکستانی حدود میں فوجی طاقت استعمال کی، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بھارتی حملے کے دوران آبادی والے علاقے اور مساجد نشانہ بنیں، جس کے نتیجے میں شہری ہلاک اور زخمی ہوئے۔ ماہرین نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر یکطرفہ فوجی طاقت استعمال کرنے کا کوئی بین الاقوامی قانونی حق موجود نہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھارت کے اقدامات کو پاکستان کی خودمختاری اور عدم مداخلت کے اصولوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ پاکستان نے بھارتی کارروائی کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مطلع کیا اور اپنے دفاع کا حق محفوظ رکھا۔
سندھ طاس معاہدے پر بھی تحفظات:
رپورٹ میں سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھی اہم نکات اٹھائے گئے۔ ماہرین نے کہا کہ بھارت ثالثی کے عمل میں شرکت سے گریز کر رہا ہے، ڈیٹا تبادلے میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے اور معاہدے کے دائرہ اختیار کو چیلنج کر رہا ہے۔ پانی روکنے یا معاہدہ معطل کرنے کے اقدامات غیر مناسب ہیں اور اس کا اثر براہِ راست عام پاکستانیوں پر پڑتا ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے پر نیک نیتی سے عمل درآمد کرے اور پانی میں رکاوٹ سے پیدا ہونے والی انسانی حقوق کی پامالی اور نقصانات کو روکنے کے لیے عملی اقدامات واضح کرے۔
اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے میں شفافیت اور ثالثی کی کارروائیوں میں شمولیت لازمی ہے تاکہ انسانی حقوق اور قانونی ذمہ داریاں متاثر نہ ہوں۔
