شمالی وزیرستان: بٹالین ہیڈکوارٹر پر حملہ ناکام، چار دہشت گرد ہلاک

شمالی وزیرستان: خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کے علاقے بویا میں سیکیورٹی فورسز کے بٹالین ہیڈکوارٹر پر جمعے کی صبح دہشت گردوں نے حملہ کیا، جس کے دوران چار دہشت گرد مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے، جو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے لیے استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت سیکریٹری کمیٹی کا اہم اجلاس، گورننس اور عوامی خدمات پر زور

ذرائع کے مطابق ایک خودکش بمبار نے بارودی مواد سے بھری گاڑی قلعے کی دیوار سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں زوردار دھماکا ہوا۔ دھماکے کی آواز تقریباً 25 کلومیٹر دور واقع میرانشاہ شہر تک سنی گئی۔

دھماکے کے بعد چار سے پانچ دہشت گرد قلعے میں داخل ہونے کی کوشش میں ناکام رہے، کیونکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تین دہشت گردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ ایک دہشت گرد اب بھی سیکیورٹی فورسز کے محاصرے میں ہے اور اس کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملہ آور احاطے میں داخل ہو کر فائرنگ بھی کر چکے تھے، جس کے دوران چار سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ دھماکے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کی خصوصی ٹیمیں اور ریسکیو 1122 کے عملے امدادی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔

حکام کے مطابق حملے میں بٹالین ہیڈکوارٹر کی صرف بیرونی دیوار کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ ضلع بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی اور ایک اہم شاہراہ پر ٹریفک عارضی طور پر معطل رہی۔

یہ واقعہ اس حملے کے دو ماہ بعد پیش آیا ہے جب میرعلی کے فوجی کیمپ پر خودکش حملہ ناکام بنایا گیا تھا اور چار دہشت گرد مارے گئے تھے۔

رواں برس گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2025 میں پاکستان دہشت گردی سے متاثرہ ممالک میں دوسرے نمبر پر رہا، جہاں دہشت گرد حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں 45 فیصد بڑھ گئی۔

62 / 100 SEO Score

One thought on “شمالی وزیرستان: بٹالین ہیڈکوارٹر پر حملہ ناکام، چار دہشت گرد ہلاک

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!