وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے حکام نے بتایا ہے کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے، جس کی منظوری وفاقی کابینہ سے لی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد شوگر انڈسٹری میں مسابقت کو فروغ دینا اور سرکاری مداخلت کم کرنا ہے۔
Thursday, 18th December 2025
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ پالیسی کے تحت نئی شوگر ملوں کے قیام پر عائد پابندی ختم کرنے اور شوگر ملز لگانے کے لیے صوبائی حکومت سے اجازت لینے کی شرط ختم کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ اس اقدام سے سرمایہ کاری میں اضافہ اور صنعت کی توسیع ممکن ہو سکے گی۔
وزارتِ نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے مطابق پالیسی میں شوگر ملز کو خام چینی درآمد کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی دی گئی ہے، تاہم کرشنگ سیزن کے دوران خام چینی کی درآمد کی اجازت نہیں ہو گی تاکہ مقامی کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ شوگر ایڈوائزری بورڈ کو ختم کرنے اور شوگر سیکٹر کی مکمل ڈی ریگولیشن کے لیے متعلقہ قوانین میں ترامیم کی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد پالیسی سازی کو آسان اور شفاف بنانا ہے۔
وزارت کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو شوگر سیکٹر کی ڈی ریگولیشن کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے تحت اصلاحاتی اقدامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ رواں سال 17 جولائی کو وزیراعظم شہباز شریف نے چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ کرنے کے لیے وزیر توانائی کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی میں سیکریٹری صنعت و پیداوار کو کنوینر مقرر کیا گیا تھا جبکہ وزیر خزانہ، وزیر قومی غذائی تحفظ و تحقیق، وزیر اقتصادی امور سمیت دیگر وزرا بھی کمیٹی کے رکن تھے۔
