اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ خاکروب کی آسامیوں سے مذہبی امتیاز ختم سیوریج ورکرز کیلئے حفاظتی اقدامات لازمی قرار

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس انعام امین منہاس نے سیوریج ورکرز کی ہلاکتوں میں اضافے اور خاکروب کی بھرتیوں میں مذہبی امتیاز کے خلاف اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ملازمت کے اشتہارات میں ’’صرف کرسچن‘‘ کے بجائے ’’شہری‘‘ لکھا جائے۔
جرمنی سے مطالبہ 18 سو افغانوں کو پاکستان سے سال کے اختتام سے قبل منتقل کیا جائے عالمی تنظیموں کا کھلا خط

مذہبی امتیاز پر سخت برہمی
عدالت نے قرار دیا کہ سرکاری اشتہار میں مذہب کی بنیاد پر ملازمت مخصوص کرنا آئین کے خلاف ہے، لہٰذا تمام متعلقہ محکمے فوری طور پر اس عمل کو درست کریں۔

سیوریج ورکرز کیلئے حفاظتی سازوسامان لازمی
فیصلے میں کہا گیا کہ سیوریج ورکرز کو زہریلی گیسوں اور جان لیوا ماحول میں بغیر حفاظتی انتظامات چھوڑ دینا سنگین غفلت ہے۔ ’’سیوریج ورکرز مشینی پرزے نہیں، انہیں مکمل حفاظتی سامان اور سہولیات فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔‘‘

ملک بھر میں جامع حفاظتی پالیسی کا حکم
عدالت نے سیوریج ورکرز کی اموات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکم دیا کہ ملک بھر میں سیوریج ورکرز کیلئے جامع حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

دو ماہ میں عمل درآمد رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت
فیصلے کے مطابق تمام متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر مکمل عمل درآمد رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے سامنے جمع کرائیں۔

60 / 100 SEO Score

One thought on “اسلام آباد ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ خاکروب کی آسامیوں سے مذہبی امتیاز ختم سیوریج ورکرز کیلئے حفاظتی اقدامات لازمی قرار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!