کراچی/برلن (اسٹاف رپورٹر) عالمی انسانی حقوق اور فلاحی تنظیموں نے جرمن حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ تقریباً 1800 افغان شہریوں کو سال کے اختتام سے پہلے پاکستان سے جرمنی منتقل کرے، تاکہ انہیں افغانستان واپس بھیجے جانے کے ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
Wednesday, 10th December 2025
تشکر نیوز میں شائع رپورٹ کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل، سیو دی چلڈرن، ہیومن رائٹس واچ اور مختلف چرچ گروپس سمیت کئی تنظیموں نے منگل کو جرمن حکومت کو کھلا خط لکھا، جس میں کہا گیا کہ متاثرہ افغانوں کو فوری طور پر منتقل کرنا ضروری ہے۔ خط میں واضح کیا گیا کہ ’’ان لوگوں کو وہ تحفظ دیا جائے جس کا وعدہ کیا گیا تھا، خصوصاً کرسمس کے موسم میں انسانیت کی قدر و قیمت مزید اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔‘‘
پروگرام کی معطلی کے بعد افغانوں کی مشکلات میں اضافہ
یہ افغان وہ افراد ہیں جو سابق جرمن حکومت کے قائم کردہ مہاجر منصوبے کے تحت منظور کیے گئے تھے، تاہم مئی 2025 میں قدامت پسند چانسلر فریڈرش مرٹز کے عہدہ سنبھالنے کے بعد اس پروگرام کو معطل کر دیا گیا تھا، جس کے باعث یہ سب لوگ پاکستان میں پھنس کر رہ گئے۔
رپورٹ کے مطابق تقریباً 350 افغان قانونی چارہ جوئی جیتنے کے بعد اس اسکیم کے تحت جرمنی پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
زیادہ تر متاثرین خواتین اور بچے
این جی اوز کے مطابق افغانستان میں رہ جانے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، جب کہ ان متاثرین میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے افغانستان میں جرمن افواج کے ساتھ کام کیا، اس کے علاوہ صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی فہرست میں شامل ہیں۔
پاکستان میں افغان مہاجرین کی صورتحال—یو این ایچ سی آر کے اعداد و شمار
اقوامِ متحدہ کے مہاجرین کے ادارے یو این ایچ سی آر کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مقیم افغانوں کی تعداد 21 لاکھ 80 ہزار سے زائد ہے، جن میں سے 12 لاکھ 22 ہزار رجسٹرڈ ہیں۔
اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ 10 لاکھ 90 ہزار سے زائد رجسٹرڈ افغانوں کے پاس پروف آف رجسٹریشن (PoR) کارڈ موجود ہیں، جب کہ ایک لاکھ 38 ہزار 703 غیر رجسٹرڈ خاندانی افراد اس میں شامل نہیں۔
پاکستان میں رجسٹرڈ پناہ کے متلاشی افراد کی کل تعداد ایک لاکھ 15 ہزار 652 ہے، جن میں سے ایک لاکھ 15 ہزار 390 افغان ہیں، جب کہ باقی یمن، ایران، صومالیہ، میانمار اور شام سے تعلق رکھتے ہیں۔
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس اسکیم میں شامل افغانوں کو سال کے اختتام سے قبل ملک بدر نہیں کیا جائے گا، تاہم اس مہلت میں مزید توسیع ممکن نہیں۔
