وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے 52ویں اسپیشلائزڈ ٹریننگ پروگرام اور 28ویں نیشنل کمانڈ کورس کے زیرِ تربیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت پولیس کو ایک جدید، ٹیکنالوجی پر مبنی فورس میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
اے این ایف کے بڑے کریک ڈاؤن ملک بھر میں 8 ملزمان گرفتار 26 کلوگرام منشیات برآمد
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ صوبے کے 31 اضلاع کے 618 تھانوں میں پولیس کی نفری 1,31,850 اہلکاروں پر مشتمل ہے، اور سندھ حکومت نے پولیس کے لیے سالانہ 189.7 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔
سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کی تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ برصغیر کی سب سے پرانی پولیس فورس ہے، جسے سنہ 1843ء میں سر چارلس نیپئر نے رائل آئرش کانسٹیبلری کے ماڈل پر قائم کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی پولیس فورس بھی ہے اور اسے انتظامی و عملی دونوں سطحوں پر اسٹریٹجک انداز میں تقسیم کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجی پر مبنی اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ ایک اہم منصوبہ ہے۔ اس کا مقصد شہر کو محفوظ اور ٹیکنالوجی سے چلنے والا بنانا ہے۔
