کراچی: سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء کے وفد نے وزیراعلیٰ ہاؤس کا دورہ کیا اور وزیر داخلہ و قانون ضیاء الحسن لنجار سے ملاقات کی۔
کراچی: کیماڑی میں شوہر کے ہاتھوں 22 سالہ ماہ نور قتل، ملزم گرفتار
وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے صدر بیرسٹر محمد سرفراز علی میتلو نے کی، جبکہ سرفراز منیر، عامر سلیم، رزاق مھر، قادر مھر اور دیگر وکلاء بھی ہمراہ تھے۔ ملاقات کے دوران وکلاء نے وزیر قانون کو باضابطہ یادداشت (Memorandum) اور اپنے مطالبات کی تحریری کاپی پیش کی۔
یادداشت میں کارونجر پہاڑی سلسلے کے موجودہ اور ممکنہ خطرات پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جسے سندھ کا قدرتی، ثقافتی اور تاریخی ورثہ قرار دیا گیا ہے۔ وکلاء نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ پہاڑی سلسلے کے تحفظ، بقا اور دیکھ بھال کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
وزیر قانون ضیاء الحسن لنجار نے وکلاء کو یقین دہانی کرائی کہ سندھ کی سرزمین، ماحولیاتی، ثقافتی اور تاریخی وراثت کے تحفظ کو حکومت اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کارونجر سمیت سندھ کے تمام تاریخی و ماحولیاتی مقامات کے تحفظ کے لیے ضروری قانونی، انتظامی اور عملی اقدامات کیے جائیں گے اور وکلاء کی سفارشات کو سنجیدگی سے زیر غور لایا جائے گا۔
یادداشت پر وزیر قانون اور وکلاء رہنماؤں نے دستخط بھی کیے، جس سے قدرتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں تعاون کی عکاسی ہوتی ہے۔
