190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ، چیف جسٹس نے معاملہ انسپکشن ٹیم کو بھیجنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ناصر جاوید رانا کو کام سے روکنے کی درخواست پر سماعت مکمل ہوگئی، جبکہ عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے واضح کیا کہ درخواست گزار کے دلائل سن لیے گئے ہیں اور اس پر حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔
پاکستان خطے میں متحرک قوت ہے قومی یکجہتی سب سے بڑی طاقت ہے فیلڈ مارشل عاصم منیر

سماعت کے آغاز میں درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی نے سیشن جج سے متعلق سپریم کورٹ کی 2004 کی آبزرویشنز کا حوالہ دیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جس نوٹی فکیشن کو چیلنج کیا گیا ہے اس میں بظاہر کوئی غیر قانونی پہلو نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ سیشن کورٹ کے ججز کا معاملہ عام طور پر ہائی کورٹ کی انسپکشن ٹیم کو بھجوایا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی انتظامی کمیٹی پہلے ہی متعلقہ جج کو بحال کرچکی ہے، اگر اب بھی اعتراض ہے تو درخواست گزار لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرے۔

اس موقع پر وکیل نے مؤقف اپنایا کہ عدالت کو اپنے اختیارات استعمال کرنے چاہئیں۔ انہوں نے جج کے طرزِ زندگی اور مہنگی گاڑیوں کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ کچہری کی پارکنگ میں کھڑی گاڑیوں کی جانچ کرائی جائے کہ وہ کس کی ہیں، ایک سیشن جج اتنی مہنگی گاڑیاں کیسے رکھ سکتا ہے؟

سماعت کے دوران وکیل نے راستوں کی بندش اور پی ایس ایل میچز کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے استدعا کی کہ عدالت شاہراہِ دستور کی بندش کے معاملے پر بھی کارروائی کرے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس حوالے سے الگ پٹیشن دائر کریں، عدالت اسے بھی دیکھ لے گی۔

دلچسپ صورتحال اُس وقت پیدا ہوئی جب وکیل نے بھارتی فلم کے کردار کا حوالہ دیا، جس میں ایک شخص ایک دن کے لیے وزیراعلیٰ بنتا ہے اور اختیارات کا بھرپور استعمال کرتا ہے۔ چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی وہ فلم دیکھی ہے، لیکن عدالت قانون کے مطابق ہی آگے بڑھے گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ متعلقہ جج لاہور ہائی کورٹ کے ماتحت تھے اور وہیں ان کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جج کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈیپوٹیشن درست تقرری کے تحت کی گئی تھی، جس کو چیلنج کیا گیا ہے۔

فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

One thought on “190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کو کام سے روکنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ، چیف جسٹس نے معاملہ انسپکشن ٹیم کو بھیجنے کا عندیہ دے دیا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!