طورخم بارڈر کی بندش سے افغانستان کو 45 ملین ڈالر نقصان، پاکستان میں اسمگلنگ سے سالانہ 3.4 کھرب روپے کا خسارہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وفاقی حکومت کے ذمہ دار ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ طورخم بارڈر کی بندش کے باعث صرف ایک ماہ میں افغانستان کو 45 ملین ڈالر سے زائد کا بھاری معاشی نقصان ہوا، جبکہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے نام پر ہونے والی وسیع پیمانے کی اسمگلنگ سے پاکستان کو ہر سال تقریباً 3 کھرب 42 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا رہا۔

پیپلز پارٹی کا 58واں یومِ تاسیس؛ کورنگی ساڑھے تین پر عظیم الشان جلسہ 30 نومبر کو ہوگا: سعید غنی

ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارتی بندش کے باوجود عام پاکستانی کی زندگی پر کوئی نمایاں اثر مرتب نہیں ہوا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے 11 اکتوبر 2025 کو افغان سرحد کی بندش کسی سیاسی ردعمل کے طور پر نہیں بلکہ تجارتی اور سکیورٹی نظام میں اصلاحات کے لیے کی۔ اس اقدام کے تحت وہ تمام راستے بند کیے گئے جو اسمگلنگ، منشیات، غیر قانونی اسلحے اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے بنیادی ذرائع تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی 70 سے 80 فیصد تجارت پاکستان کی بندرگاہوں اور سڑکوں پر منحصر ہے، یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے لیے سامان کراچی کے راستے 3 سے 4 دن میں پہنچ جاتا ہے جبکہ ایران کے راستے 6 سے 8 دن لگتے ہیں۔ وسط ایشیائی ممالک کے ذریعے یہی سامان افغانستان پہنچنے میں 30 دن سے زائد وقت لیتا ہے۔

حقائق کے مطابق افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے پردے میں اسمگلنگ شدہ سامان پاکستان میں داخل ہوتا رہا، اور ہر سال ہونے والا 3.4 کھرب روپے کا نقصان ملکی معیشت کے لیے مسلسل بوجھ بنا ہوا تھا۔ ذرائع کے مطابق افغان ٹرانزٹ کا تقریباً 1 کھرب روپے مالیت کا سامان دوبارہ پاکستان میں واپس آ جاتا تھا، جو اضافی نقصان کا سبب بنتا تھا۔

طورخم بارڈر کی بندش کے بعد صرف ایک ماہ میں افغانستان کو 45 ملین ڈالر کا نقصان ہوا جبکہ چند ہفتوں میں تمام سرحدوں کی بندش سے مجموعی نقصان 200 ملین ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ اس صورتحال میں 5000 سے زائد ٹرک مختلف مقامات پر پھنس گئے جبکہ افغان فصلیں اور پھل جو پاکستان کی مارکیٹوں کا رخ کرنے تھے وہ یا تو خراب ہو گئے یا افغانستان میں ہی انتہائی کم قیمتوں پر فروخت کرنا پڑے۔

63 / 100 SEO Score

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!