کراچی (نمائندہ خصوصی) – ڈپٹی کمشنر ضلع وسطی طحہ سلیم کی زیر صدارت خسرہ اور روبیلا (MR) ویکسینیشن مہم کے حوالے سے ایک اہم اجلاس ڈپٹی کمشنر آفس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں محکمہ صحت، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO)، یونیسف (UNICEF)، پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (PEI) اور دیگر متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن کی سربراہی میں سیمینار: منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی پر زور
اجلاس میں بتایا گیا کہ یونیسف اور ڈبلیو ایچ او کے تعاون سے ضلع وسطی میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کے لیے خسرہ اور روبیلا ویکسینیشن مہم کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے۔ یہ مہم 17 نومبر سے 29 نومبر 2025 تک جاری رہے گی۔
ڈپٹی کمشنر طحہ سلیم نے اجلاس میں کہا کہ خسرہ اور روبیلا جیسے مہلک امراض سے بچوں کو محفوظ بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ مہم کے تمام اہداف کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور کسی بھی بچے کو ویکسینیشن سے محروم نہ رہنے دیا جائے۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ پولیو ایریڈیکیشن انیشیٹو (PEI) کے تعاون سے مہم کے دوران پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو ویکسین بھی فراہم کی جائے گی، جبکہ ڈبلیو ایچ او کی ٹیمیں گھر گھر جا کر یقینی بنائیں گی کہ خسرہ، روبیلا اور پولیو سے بچاؤ کے ٹیکے ہر مستحق بچے تک پہنچیں۔
انہوں نے والدین سے اپیل کی کہ وہ خسرہ، روبیلا اور پولیو جیسی جان لیوا بیماریوں کے نقصانات سے آگاہی حاصل کریں اور ہیلتھ ورکرز کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔
ڈپٹی کمشنر نے والدین اور اساتذہ سے کہا:
“خدارا اپنے بچوں کو عمر بھر کی معذوری اور مہلک بیماریوں سے محفوظ بنانے کے لیے حکومت سندھ، ضلعی انتظامیہ اور ڈبلیو ایچ او کی ٹیموں سے تعاون کریں۔ ہیلتھ ورکرز اسکولوں، مدرسوں اور گھروں تک بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے پہنچ رہے ہیں، لہٰذا ان کے کام میں سہولت فراہم کی جائے۔”
اجلاس کے اختتام پر ڈپٹی کمشنر نے تمام محکموں کو ہدایت کی کہ مہم کی نگرانی سختی سے کی جائے اور روزانہ کی بنیاد پر کارکردگی رپورٹ جمع کرائی جائے۔

