کراچی: آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے سندھ پولیس میوزیئم میں منعقدہ ایک روزہ سیمینار میں شرکت کی، جس کا عنوان تھا "منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی”۔ سیمینار اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم، حکومت برطانیہ، حکومت پاکستان اور سندھ پولیس کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ سندھ کی صدارت میں کابینہ اجلاس، اہم ترقیاتی اور انتظامی فیصلے
سیمینار میں پانچ سیشنز میں سابق آئی جیز، تاجروں کے نمائندے، سینیئر صحافی، سماجی رہنما، اساتذہ اور محققین نے شرکت کی۔ تقریب کا مقصد سندھ کی سول سوسائٹی، اکیڈمیا اور تاجربرادری کو منظم جرائم کے خلاف آگاہ کرنا اور تعاون بڑھانا تھا۔
آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی ناگزیر ہے، اور اس میں سول سوسائٹی، اکیڈمیا، تاجربرادری، میڈیا اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی آج ورلڈ کرائم انڈیکس میں 19 ویں نمبر پر ہے، جبکہ گزشتہ سال یہ 128 ویں نمبر پر تھا، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیابی ظاہر ہوتی ہے۔
سیمینار میں درج ذیل امور پر خصوصی زور دیا گیا:
-
بھتہ خوری، اغواء برائے تاوان، اسٹریٹ کرائم، گاڑی چوری اور منشیات اسمگلنگ کے خلاف اقدامات۔
-
پولیس اسٹیشنز اور تفتیشی عمل میں بہتری، متاثرین کو انصاف اور ملزمان کو سزا یقینی بنانے کے اقدامات۔
-
تھانہ جات کو براہ راست بجٹ فراہم کرنا اور سب انسپیکٹر رینک کے افسران کو ایس ایچ او مقرر کرنے کے فوائد۔
-
ٹریفک ای-چالان اور ٹریکس کیمرا بیسڈ نظام کے ذریعے ٹریفک قوانین کی مؤثر تعمیل۔
-
سول سوسائٹی، اکیڈمیا اور تاجربرادری کی شمولیت سے منظم جرائم کے خاتمے کی حکمت عملی۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ چھوٹی اصلاحات جیسے ڈرائیونگ لائسنس برانچ کی جدید کاری اور ٹریفک ای-چالان نظام سے پولیس کلچر اور مالیاتی استحکام میں نمایاں بہتری آئی ہے، اور یہ اقدامات معاشی عدم استحکام اور جرائم کے خاتمے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
