تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
عمارت کے اندر کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ پر پابندی عائد کردی گئی‘ صرف اداروں کی جانب سے بیٹ رپورٹرز کو داخلے کی اجازت ہوگی۔ ترجمان سپریم کورٹ کا اعلامیہ
اسلام آباد ( 22 جنوری 2024ء ) سپریم کورٹ نے عمارت میں داخلے پر کورٹ رپورٹرز کے لیے گائیڈلائنز جاری کر دی۔ تفصیلات کے مطابق ترجمان سپریم کورٹ کی جانب سے جاری اعلامیہ مین کہا گیا ہے کہ یہ ہدایات رجسٹرار سپریم کورٹ جزیلہ اسلم کی اجازت سے جاری کی گئی ہیں، جن کے تحت سپریم کورٹ میں اہم کیسز کی سماعت میں کمرہ عدالت میں ایک ادارے سے ایک رپورٹر کو جانے کی اجازت ہو گی، سپریم کورٹ میں صرف اداروں کی جانب سے بیٹ رپورٹرز کو داخلے کی اجازت ہو گی۔
اعلامیہ سے معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ میں داخلے کے وقت تلاشی کے لیے سکیورٹی اسٹاف سے تعاون کرنا لازم ہوگا، سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر یوٹیوب پروگرام سمیت کسی قسم کی ریکارڈنگ پر پابندی عائد کردی گئی ہے، سپریم کورٹ بلڈنگ میں کسی قسم کی ریکارڈنگ بشمول یوٹیوب پروگرام ریکارڈ کرنے منع ہے، بڑے کیسز کے دوران آنے والے رپورٹرز کو باقی کمرہ عدالت میں عدالتی کارروائی دیکھانے کا مناسب انتظام کیا جائے گا۔
علاوہ ازیں سپریم کورٹ کی جانب سے جاری سہ ماہی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بطور چیف جسٹس حلف لینے کے بعد پہلے تین ماہ کی رپورٹ جاری کی گئی ہے، 17 ستمبر 2023ء تا 16 دسمبر 2023ء کے عرصہ میں عدالت عظمیٰ نے پانچ ہزار 305 کیسز نمٹائے ہیں جب کہ اس عرصہ کے دوران سپریم کورٹ میں چار ہزار 466 نئے کیسز فائل کئے گئے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 17 ستمبر 2023 کو عدالت عظمیٰ میں56 ہزار 503 کیسز زیرالتوا تھے تاہم 16 دسمبر 2023 تک زیر التوا کیسز 55 ہزار 644 تک کم ہوگئے، اس طرح چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ نے پہلے تین ماہ کے دوران زیادہ سے زیادہ کیسز کی سماعت کو یقینی بنایا جس کے نتیجہ میں تین ماہ کے مختصر عرصہ میں عدالت عظمیٰ میں زیر التوا کیسز کی تعداد میں 859 کی کمی ہوئی ہے۔
