بس اب بہت ہوگیا‘ ہمیں ایسی جگہ نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، بیرسٹر گوہر

بس اب بہت ہوگیا‘ ہمیں ایسی جگہ نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، بیرسٹر گوہر
انتخابی عمل کے آغاز کے باوجود جماعت کے خلاف ریاستی انتقامی کارروائیوں میں نرمی دکھائی نہیں دے رہی‘ اگر سرکار، عدلیہ اور الیکشن کمیشن آسانی پیدا کریں تو آگے بڑھ سکیں گے۔ پی ٹی آئی رہنماء کا انٹرویو

تشکُّر نیور ویب ڈیسک

بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا ہے کہ مقتدر حلقوں کو ادراک ہونا چاہیے کہ بس اب بہت ہوگیا، ہمیں ایسی جگہ نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، اگر سرکار، عدلیہ اور الیکشن کمیشن آسانی پیدا کریں تو آگے بڑھ سکیں گے، عمران خان کسی صورت مائنس نہیں ہوسکتے، عمران احمد خان نیازی صاحب چئیرمین تھے، چئیرمین ہیں اور چئیرمین رہیں گے۔
وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان نے صرف اور صرف بلے کو بچانے کی خاطر چیئرمین شپ سے استعفیٰ دیا، ہمیں کہا گیا کہ آپ جا کر الیکشن کروائیں تاکہ کسی کو کوئی بہانہ نہ ملے، لیکن بھر ہمیں کیس ہروایا گیا اور انتخابی عمل کے آغاز کے باوجود جماعت کے خلاف ریاستی انتقامی کارروائیوں میں نرمی دکھائی نہیں دے رہی، ہمیں الیکشن میں حصہ لینے دیں، 9 مئی واقعے پرجو لوگ گرفتار ہیں ان کی عام معافی نہیں چاہتا، اگر سزا دینی بھی ہے تو ہمارے خدشات کو مدنظر رکھا جائے، مائنس عمران خان کسی صورت ممکن نہیں ہے۔
ایک سوال کے جواب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانونی طور پر آرٹیکل 188 کے مطابق ہمارے پاس 30 دن کا وقت ہے لیکن سپریم کورٹ نے ابھی تفصیلی فیصلہ جاری نہیں کیا، فیصلہ آجائے تو ہم نظر ثانی دائر کریں گے، پہلے ہی ہماری پٹیشن کو 3 کے بجائے 5 ججز کو سننا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب سیز فائر ہوجانا چاہیے اور مستقبل کی طرف بڑھنا چاہیے، تاہم اس حوالے سے ابھی تک نہ میں نے کوئی رابطہ کیا ہے اور نہ مجھ سے کوئی رابطہ ہوا ہے، جب سے میں چیئرمین بنا ہوں مجھے کسی نے ڈرایا، دھمکایا نہیں اور نہ ہی کسی نے مجھے اپروچ کیا ہے، عمران خان کی طرف سے جو بیان آیا ہے اس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہم سب سے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں، عمران خان نے فوج کے ساتھ کوئی جھگڑا نہیں کیا، یہ ایک غلط فہمی ہے جو ہم دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی رہنماء نے کہا کہ الیکشن کے بعد پی ٹی آئی کا کوئی ارادہ نہیں کہ وہ سولو فلائٹ لے گی بلکہ ہماری کوشش یہی ہے کہ سب کے ساتھ مل کر ملک کی بہتری کے لیے سوچیں گے، 860 حلقوں میں سے 815 پر ہمارے امیدوار ہیں، ہم انتخابات میں کسی کے ساتھ اتحاد کیے بغیر آگے بڑھیں گے، سبق سیکھ لیا ہے، یہ چھوڑتے نہیں اور ہم ہار مانتے نہیں، افسوس اس بات کا ہے کہ نوازشریف کو واپس لے کرآئے، بائیومیٹرک ایئرپورٹ پر کروایا گیا، کسی ایک پارٹی کو تنہا کرنے سے جمہوریت کو نقصان

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!