سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت پر الزام سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ اس معاہدے کی روح کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا یہ اقدام عالمی برادری اور خود سلامتی کونسل کے لیے بھی سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔
Friday, 7th November 2025

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، سفیر عاصم افتخار نے مشترکہ قدرتی وسائل کو ’’ہتھیار‘‘ بنانے کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ طاس معاہدہ چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کی ایک مثال رہا ہے، جس نے جنگ کے ادوار میں بھی پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا غیر قانونی اور یکطرفہ فیصلہ معاہدے کے متن اور روح دونوں کے منافی ہے، جو ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچانے کے ساتھ لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے جو خوراک اور توانائی کے تحفظ کے لیے سندھ کے پانی پر انحصار کرتے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں کوئی ایسی شق موجود نہیں جو کسی فریق کو یکطرفہ طور پر معاہدہ معطل کرنے یا اس میں ترمیم کی اجازت دیتی ہو۔ انہوں نے معاہدے پر مکمل عمل درآمد اور قائم شدہ طریقہ کار کے ذریعے معمول کی بحالی پر زور دیا۔

سفیر عاصم افتخار نے ماحولیات اور سلامتی کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام اور پائیدار امن کے لیے ماحولیاتی عوامل کو مربوط حکمتِ عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تنازع کے دوران ماحولیاتی تباہی صرف ’’ضمنی نقصان‘‘ نہیں بلکہ مستقبل کے عدم استحکام کی بنیاد بنتی ہے۔

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ مشترکہ قدرتی وسائل کو تقسیم کے بجائے تعاون کے ذرائع میں تبدیل کرنے کے لیے بین الاقوامی قانون اور اجتماعی اقدامات کے فروغ میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

یاد رہے کہ 1960 کے سندھ طاس معاہدے کے تحت تین مغربی دریا پاکستان اور تین مشرقی دریا بھارت کے حصے میں آئے تھے۔ بھارت نے اپریل 2023 میں ایک حملے کا الزام پاکستان پر لگا کر معاہدہ عارضی طور پر معطل کیا، جسے پاکستان نے ’’جنگی اقدام‘‘ قرار دیا تھا۔ بعد ازاں مستقل ثالثی عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کو معاہدہ معطل کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور مغربی دریاؤں پر منصوبے معاہدے کی شرائط کے مطابق ہی تعمیر کیے جا سکتے ہیں۔

66 / 100 SEO Score

One thought on “سلامتی کونسل میں پاکستان کا بھارت پر الزام سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!