کراچی کی مشہور ناردرن بائی پاس مویشی منڈی میں عیدِ قربان کے پیش نظر سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں ملک بھر سے مویشیوں کی آمد کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔
پاکستان کا بڑا خلائی سنگِ میل، ای او تھری سیٹلائٹ کامیابی سے خلا میں بھیج دیا گیا
انتظامیہ کے مطابق اب تک منڈی میں 14 ہزار سے زائد قربانی کے جانور پہنچ چکے ہیں، جبکہ مزید جانوروں کی آمد بھی جاری ہے۔ ایڈمنسٹریٹر طارق تنولی کا کہنا ہے کہ رحیم یار خان، گھوٹکی، نوابشاہ، ملتان اور سانگھڑ سمیت مختلف شہروں سے بیوپاری اپنے اعلیٰ نسل کے جانور لے کر منڈی پہنچ رہے ہیں۔
بیوپاری غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ وہ نوشہروفیروز سے دو گاڑیوں میں 25 جانور لے کر آئے ہیں۔ انتظامیہ کے مطابق منڈی کے داخلی راستوں پر قائم مارشلنگ ایریا میں ویٹرنری ڈاکٹرز کی ٹیمیں ہر وقت موجود ہیں، جو جانوروں کا طبی معائنہ کرنے کے بعد ہی انہیں داخلے کی اجازت دیتی ہیں۔
منڈی کے سفائر بلاک میں “چاند بیل” نامی خوبصورت جانور نے خصوصی توجہ حاصل کر لی ہے، جس کے ڈھائی فٹ لمبے سینگ اور منفرد کالی و سرمئی رنگت خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہے۔ بیوپاری کے مطابق اس بیل کی خوراک میں مکئی اور گندم کا آٹا، چوکر اور ہرا چارہ شامل ہے جبکہ اس کی صحت اور ویکسینیشن کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے۔
ایڈمنسٹریٹر طارق تنولی نے بتایا کہ بیوپاریوں اور خریداروں کے لیے 24 گھنٹے پانی، ہیوی جنریٹرز کے ذریعے لائٹنگ، محفوظ پارکنگ اور فوڈ اسٹریٹ سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کر دی گئی ہیں تاکہ شہریوں کو خریداری کے دوران کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس سال “عوام دوست منڈی” کے تصور کے تحت انتظامات کو مزید بہتر بنایا گیا ہے، تاکہ خریدار اور بیوپاری دونوں کے لیے سہولت اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔

