عباس عراقچی کی سربراہی میں ایرانی وفد دو روزہ دورہ مکمل کرنے کے بعد اسلام آباد سے روانہ ہو گیا ہے۔ وفد اپنے دورے کے اگلے مرحلے میں مسقط اور ماسکو کا رخ کرے گا، جہاں مزید سفارتی مشاورت متوقع ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کی پاکستانی سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں مثبت رہیں اور اہم امور پر پیش رفت ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جاری سفارتی عمل میں مزید پیش رفت ہوئی تو عباس عراقچی عمان اور روس کے دوروں کے بعد دوبارہ اسلام آباد کا دورہ کر سکتے ہیں۔
اپنے دورے کے دوران ایرانی وزیر خارجہ نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و استحکام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شریک تھے۔ اس موقع پر ایرانی وزیر خارجہ نے ایرانی قیادت کے مؤقف اور امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے متعلق خدشات پر پاکستانی قیادت کو اعتماد میں لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے سفارتی کوششوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر ممکن حد تک مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔ دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
ملاقات میں خطے میں کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کے تسلسل کو برقرار رکھنے اور مسائل کے پرامن حل پر زور دیا گیا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو سراہتے ہوئے انہیں خطے میں استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔
قبل ازیں عباس عراقچی کی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پہلی باضابطہ ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور قومی سلامتی کے مشیر عاصم ملک بھی شریک تھے، جبکہ ایرانی وفد میں نائب وزیر خارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ترجمان اسماعیل بقائی بھی موجود تھے۔
مبصرین کے مطابق یہ دورہ پاکستان، ایران اور دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان جاری سفارتی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے، جس کے اثرات آئندہ دنوں میں مزید واضح ہو سکتے ہیں۔
