کراچی (اسٹاف رپورٹر) آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ سندھ پولیس میں ڈیجیٹلائزیشن اور اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، پولیس-15 کو جدید تقاضوں کے مطابق سینٹرلائزڈ اور ٹیکنالوجی بیسڈ سسٹم میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی ایس بی سی اے مزمل ہالیپوٹو کا ماحول دوست تعمیرات کے لیے بائی لاز میں ترمیم پر زور
سینٹرل پولیس آفس کراچی میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے پولیس-15 کی کارکردگی، اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹلائزیشن سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا۔ اجلاس میں ڈی جی سیف سٹی، ڈی آئی جیز، اے آئی جیز، ایس پی پولیس-15 سمیت مختلف شعبوں کے افسران نے شرکت کی۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سیف سٹی منصوبے کی تکمیل اور پولیس رسپانس سسٹم کی بہتری کے لیے پولیس-15 کی اپ گریڈیشن ناگزیر ہے۔ کراچی کے مختلف مقامات پر سیف سٹی کیمروں کے ذریعے مانیٹرنگ جاری ہے جبکہ ایمرجنسی ریسپانس وہیکلز (EVR) چوری، چھینا چھپٹی اور مفرور ملزمان کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ پولیس-15 کے آلات اور فلیٹ کو مکمل اوور ہالنگ کی ضرورت ہے، جبکہ ایس ایس یو اہلکار بھی پولیس-15 کے ہمراہ گشت کرتے ہیں۔ موٹر سائیکل اسکواڈ رہائشی اور تجارتی علاقوں میں نگرانی انجام دے رہا ہے۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سیف سٹی اور مختلف ریسپانس یونٹس کو یکجا و سینٹرلائزڈ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کارکردگی اور رسپانس ٹائم میں بہتری لائی جا سکے۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پولیس-15 کا نام، تنظیمی ڈھانچہ، افرادی قوت، جدید ڈیجیٹل و سیفٹی آلات اور وہیکلز سے متعلق جامع سفارشات آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں۔
آئی جی سندھ نے مزید کہا کہ شہریوں کی پولیس تک براہِ راست رسائی، شاہراہوں اور شہروں کی نگرانی، اور تمام ریسپانس ڈیجیٹل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے تحت ہونا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ کالر اور ریسپانس یونٹ کو ڈیجیٹل انٹیگریشن کے ذریعے جوڑ کر رسپانس ٹائم کم سے کم کیا جائے، تاکہ شہریوں کو فوری اور مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

