غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر نے ایران کی ایٹمی توانائی تنظیم کے دورے کے دوران کہا کہ ایران اپنی خودمختاری پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں۔
ایرانی صدر نے جوہری صنعت کے سینیئر حکام سے ملاقات میں واضح کیا کہ “عمارتوں اور فیکٹریوں کی تباہی ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتی، ہم انہیں دوبارہ تعمیر کریں گے، اس بار زیادہ طاقت کے ساتھ۔”
افغان طالبان بھارتی ایجنڈے پر عمل کر رہے ہیں خواتین و اقلیتوں پر جبر اُن کا اصل چہرہ ہے خواجہ آصف
انہوں نے سرکاری میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام عوامی مفاد کے لیے ہے۔ “ہمارا سارا جوہری پروگرام عوام کے مسائل حل کرنے، بیماریوں کے علاج اور صحت کے فروغ کے لیے ہے، اس کا کسی عسکری منصوبے سے کوئی تعلق نہیں۔”
خیال رہے کہ جون میں امریکا نے ایران کی بعض جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے جنہیں واشنگٹن ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم ایران مسلسل اس الزام کی تردید کرتا آیا ہے اور اسے پرامن توانائی منصوبہ قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے تباہ شدہ جوہری تنصیبات کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کی تو وہ نئے فضائی حملوں کا حکم دیں گے۔
