تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
صرف دو دن کیلئے آئی جی اور کراچی پولیس چیف کو میرے ماتحت کریں پھر جرم ہوا تو استعفیٰ دے دوں گا، گورنر سندھ کی سول اہسپتال کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو
کراچی( 20 جنوری2024 ء) گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا بڑا دعویٰ کہتے ہیں کہ صرف دو دن کیلئے آئی جی اور کراچی پولیس چیف کو میرے ماتحت کریں پھر وہ دیکھیں گے کہ کسی سے موٹرسائیکل یا فون کیسے چِھینے جاتاہے۔
اگرشہر میں جرم ہوا تو میں عہدے سے استعفیٰ دے دوں گا۔ سول اسپتال کراچی کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا۔انہوں نے کہا کہ ”کیا مجھے نہیں پتا کہ موٹر سائیکل کہاں کھل کر بکتی ہیں، کیا مجھے نہیں معلوم کہ چوری کے موبائل فون کہاں خریدے اور بیچے جاتے ہیں۔“جنہیں نگران حکومت دی گئی ان سے بھی سوال کرنے کی ضرورت ہے، سمریوں پر دستخط نہیں کئے جا رہے، نظام کیسے درست ہو گا۔ لوگ ہم سے پوچھ رہے ہیں کہ شہر میں کرائم کب ختم ہو گا، جن کی موٹر سائیکل اور موبائل چھینے گئے انہیں جلد ہم فراہم کریں گے۔
ہر میں اسٹریٹ کرائم کا بہت برا حال ہے، کراچی پولیس چیف سے اس بارے میں پھر بات کروں گا۔حکومت سندھ اور وزیر داخلہ کی ذمے داری ہے کہ وہ عوام کی موٹر سائیکلیں اور فون بازیاب کرائیں۔تھانہ ایس ایچ اوز کا کام عوام کی خدمت اور سیکیورٹی ہے، ان کو میں انسان کا بچہ بناوں گا۔ ان کا مزید کہنا تھا الیکشن قریب ہیں اور سب جماعتیں دعوے کر رہی ہیں، کراچی کے تمام سرکاری اسپتالوں کا بہت برا حال ہے، دیگر صوبوں میں 10 لاکھ روپے تک علاج کیلئے کارڈز موجود ہیں، سیکرٹری صحت سے کہا کہ سندھ کے عوام کو بھی صحت کارڈ مہیا کرنے کے اقدامات کئے جائیں، 95 ارب روپے کا بجٹ اسپتالوں کو دیا جا رہا ہے وہ کہاں جا رہا ہے۔سول اسپتال میں ایک بستر پر تین تین بچے رکھے گئے ہیں، زیر علاج بچوں کے اہلخانہ فٹ پاتھ پر سونے پر مجبور نظر آئے۔ کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کراچی میں جہاں جائیں گٹر کھلے ملتے ہیں، آج 11 مقامات پر دیکھا کہیں گٹر کا ڈھکن نہیں تھا۔
