کراچی (اسٹاف رپورٹر) — سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کے ڈائریکٹر جنرل مزمّل حسین ہالیپوٹو کی ہدایات پر خطرناک اور مخدوش عمارتوں کے انہدام کی مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔ شہر بھر میں ڈیمالیشن اسکواڈ کی کارروائیاں جاری ہیں جن کے دوران اضافی منزلوں، غیرقانونی پورشنز اور استعمال اراضی کی خلاف ورزیوں کو منہدم یا سربمہر کیا گیا۔
ایم پی اے رومہ مشتاق مٹو کے بھائی کے ولیمہ میں وزراء اور ارکانِ اسمبلی کی شرکت
تفصیلات کے مطابق، ڈسٹرکٹ ساؤتھ لیاری کے علاقے میں پلاٹ نمبر 4748، اسٹریٹ نمبر 26، اور پلاٹ نمبر LY-8/68/K-2، 36 اور 37 (عبدالمجید روڈ، نوآباد لیاری) پر خطرناک قرار دی گئی ملٹی فلور عمارتوں کو مکمل طور پر زمین بوس کرنے کا عمل جاری ہے۔ اسی طرح صدر کے علاقے میں پلاٹ نمبر 2/1, SR-06، پلاٹ نمبر 04, GK-06 اور 22, SB-5 کو اگلی کارروائی تک سربمہر کر دیا گیا۔
ماہر انجینئرز پر مشتمل ٹیکنیکل کمیٹی برائے خطرناک عمارات کے مطابق اب تک 567 سے زائد عمارتیں ناقابلِ رہائش قرار دی جا چکی ہیں۔
ڈی جی ایس بی سی اے نے کہا کہ ایسے ڈھانچے انسانی المیوں کا سبب بن رہے ہیں، اس لیے وزیرِ بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی ہدایات پر یہ مہم مکمل انہدام تک جاری رہے گی۔
دیگر کارروائیوں میں:
-
ڈسٹرکٹ سینٹرل میں لیاقت آباد، شریف آباد، عثمانیہ اور رضویہ سوسائٹیز میں غیرقانونی تعمیرات گرادی گئیں۔
-
ناظم آباد میں ساتویں اور تیسری منزلوں کی جزوی مسماری، اور پاپوش نگر میں استعمالِ اراضی کی خلاف ورزی پر نجی اسکول کا کمرہ منہدم کیا گیا۔
-
گلبرگ ٹاؤن میں نجی بینک کی پارٹیشن دیواریں اور کمرے مسمار کیے گئے۔
-
نارتھ ناظم آباد میں غیرقانونی دکانوں کے رولنگ شٹرز اور پارٹیشنز ہٹائے گئے۔
-
اسکیم 33، گلشنِ اقبال، اور کورنگی میں اضافی منزلوں اور پارٹیشن دیواروں کو بھاری مشینری سے منہدم کیا گیا۔
ڈیمالیشن آپریشنز ڈائریکٹر ڈیمالیشن، متعلقہ ڈپٹی و اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی زیرِ نگرانی مکمل کیے گئے، جبکہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ایس بی سی اے پولیس فورس بھی ہمراہ موجود تھی۔
