شہرِ قائد میں ناگن چورنگی کے قریب فائرنگ سے دو نوجوانوں کے قتل کے کیس میں بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے مذہبی جماعت کے کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث کالعدم زینبیون گروپ کے دو کارندوں، اسرار حسین گلگتی اور معصوم رضا عرف عامر کو گرفتار کرلیا۔
ڈی آئی جی سی ٹی ڈی غلام اظفر مہیسر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں ملزمان سے دو ہینڈ گرنیڈ اور دو پستول برآمد ہوئے۔ گرفتار ملزمان کا گروپ پڑوسی ملک سے آپریٹ ہو رہا تھا۔ معصوم رضا 20 روز قبل پاکستان آیا اور اس کے قبضے سے ایک فہرست برآمد ہوئی ہے جس میں مزید اہداف درج تھے۔
ڈی آئی جی کے مطابق ملزمان ناگن چورنگی کے قریب عبدالرحمٰن اور انس الرحمٰن کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں۔ یاد رہے کہ 20 اکتوبر کو دکان پر موٹرسائیکل سوار دو ملزمان نے فائرنگ کرکے دو نوجوانوں کو قتل کیا تھا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک ملزم کو فائرنگ کرتے اور دوسرا موٹرسائیکل پر نگرانی کرتے دیکھا گیا تھا۔
غلام اظفر مہیسر نے بتایا کہ سی ٹی ڈی نے حالیہ دنوں میں 32 انٹیلی جنس بیس آپریشنز کیے ہیں اور تحقیقات کے دوران متعدد ہتھیاروں کے ذرائع کا سراغ لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے سی ٹی ڈی کے لیے علیحدہ پراسیکیوٹر مقرر کیے ہیں جس سے تفتیشی عمل بہتر ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’بدقسمتی سے مثبت کاموں کو وہ پذیرائی نہیں ملتی جو منفی خبروں کو ملتی ہے، تاہم سی ٹی ڈی کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے حیدرآباد میں دو کیسز میں مجرموں کو عمر قید کی سزا ہوئی، جبکہ کراچی میں بھی تین دہشتگردوں کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں سنائی گئیں۔
