حکومتِ سندھ نے کچے کے علاقوں میں امن و استحکام کے قیام کے لیے رضا کارانہ سرینڈر پالیسی جاری کر دی ہے جس کے تحت 50 ایسے ڈاکو جو ان کے سر کی قیمت مقرر ہے، وہ ہتھیار ڈال کر قومی دھارے میں شامل ہوں گے۔ محکمہ داخلہ کے اشتہار کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی منظوری سے یہ پالیسی سکھر اور لاڑکانہ ڈویژن کے کچے علاقوں میں نافذ کی جائے گی۔
جماعت اسلامی نے کراچی کے حقوق کا سودا کردیا چندہ بکس بند ہونے پر بوکھلاہٹ کا شکار ہے علی خورشیدی
محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ اس اسکیم کے تحت رضا کارانہ طور پر ہتھیار ڈالنے والے ڈاکوؤں کے لیے ایک خصوصی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں واپسی کے عمل کو باضابطہ طور پر آگے بڑھایا جائے گا۔ اشتہار کے مطابق کچے کی وہ سرزمین جو برسوں تک خوف، جرائم اور بے یقینی کی علامت رہی، اب امن، امید اور استحکام کی جانب رواں ہے۔
محکمہ داخلہ نے واضح کیا کہ یہ کوئی عام معافی اسکیم نہیں ہے؛ ہتھیار ڈالنے اور گرفتاری دینے والے مشتبہ افراد پر قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی، اور اسلحہ و بارود ضبط کیا جائے گا۔ تاہم، حکام نے کہا کہ سرینڈر کرنے والوں کے اہلِ خانہ کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
پالیسی کے تحت کچے میں بچوں اور خواتین کے لیے تعلیمی، صحت اور فلاحی سہولیات فراہم کی جائیں گی، بند اسکول و ڈسپنسریاں مرحلہ وار بحال کی جائیں گی، اور ہتھیار ڈالنے والے افراد کو فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔ سرینڈر پالیسی کی عملداری اور نگرانی کے لیے محکمہ داخلہ نے مانیٹرنگ کمیٹیاں قائم کر دی ہیں اور ریڈریسل سیل بھی فعال کیا گیا ہے۔
صوبائی محکمہ داخلہ کا کہنا ہے کہ سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبے کچے کے علاقوں میں شروع کیے جائیں گے اور ہر ماہ پالیسی کا جائزہ لے کر زمینی حقائق کے مطابق ترامیم کی جائیں گی۔ پالیسی قطعی طور پر سزا سے استثنا نہیں دیتی، اور مطلوبہ بینچ مارکس پورے نہ ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
