وزیرِ دفاع نے مذہبی جماعت کے احتجاج کے حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وطنِ عزیز میں مذہب کے نام پر مسلح جتھے بنانا اور سڑکیں بند کرکے عوام کو یرغمال بنانا توہینِ مذہب ہے۔
غزہ میں جنگ بندی کے بعد یرغمالیوں اور قیدیوں کا تبادلہ دو سالہ جنگ کے خاتمے کی بڑی پیش رفت
وزیرِ دفاع نے کہا کہ پچھلے دو سال میں غزہ میں ظلم اور خون کی ہولی کھیلی گئی مگر اس وقت کسی نے احتجاج نہیں کیا، جب وہاں جنگ بندی ہوئی تو احتجاج شروع ہوگئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ بعض مواقع پر احتجاج اور تشدد کا نفاذ محض سیاسی یا ذاتی مفادات کا مظہر ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ معاشرے کو یرغمال بنانا اور مذہب کے نام پر تشدد کا سبق پڑھانا بند کیا جائے۔ وزیر نے زور دے کر کہا کہ ہمارا دین، قرآن و سنت، بھائی چارے اور محبت کا پیغام دیتا ہے؛ ہمیں نفرتیں اور تقسیم ختم کرکے دنیا و آخرت دونوں سنوارنی چاہئیں۔
وزیرِ دفاع کے اس بیان کو ملکی سلامتی اور جمہوری عمل کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ مختلف جماعتوں اور سول سوسائٹی کے حلقوں کی جانب سے ردِعمل متوقع ہے
