اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق حماس نے پیر کو غزہ میں ریڈ کراس کے نمائندوں کے حوالے تمام 20 زندہ اسرائیلی یرغمالیوں کو کر دیا، جنہیں دو مرحلوں میں رہائی دی گئی۔ دوسرے مرحلے میں 13 یرغمالیوں کو جنوبی غزہ کے شہر خان یونس منتقل کیا گیا
سہیل آفریدی کا پہلا خطاب عمران خان کے بغیر فیصلہ ہوا تو ملک جام کر دیں گے
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے کے تحت اسرائیل بھی اپنی جیلوں سے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں کو رہا کر رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق رہائی پانے والے قیدیوں کو لے کر 38 بسیں غزہ پہنچ چکی ہیں۔
یہ پیش رفت اسرائیل اور حماس کے درمیان طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے، جسے دو سالہ جنگ کے خاتمے کی سمت سب سے بڑا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاہدہ ایک پائیدار امن کے لیے ابتدائی کوشش ہے۔
اسرائیل میں عوام نے غزہ کے قریب فوجی کیمپ رئیم کے باہر جمع ہو کر جھنڈے لہرائے اور یرغمالیوں کی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔ تل ابیب کے یرغمالی چوک میں بھی سیکڑوں افراد نے یرغمالیوں کی تصاویر والے پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔
دوسری جانب، جنوبی غزہ کے نصر ہسپتال کے قریب نقاب پوش مسلح افراد نظر آئے، جو غالباً حماس کے عسکری ونگ کے ارکان تھے۔ وہ اس مقام پر موجود تھے جہاں ریڈ کراس کے ذریعے یرغمالیوں کی حوالگی اور فلسطینی قیدیوں کی واپسی کی کارروائی جاری تھی۔
یہ جنگ بندی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب دو سال سے جاری اسرائیل-حماس جنگ نے ایران، یمن اور لبنان جیسے ممالک کو بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل کر لیا تھا، جس کے نتیجے میں خطے کا سیاسی نقشہ بدل گیا اور اسرائیل عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تنہائی کا شکار ہوا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن سے اسرائیل روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’جنگ ختم ہو گئی ہے‘‘۔ ان کے بقول، ’’اب حالات معمول پر آ جائیں گے‘‘۔
ٹرمپ پیر کو اسرائیلی پارلیمان سے خطاب کریں گے، جہاں ان کے لیے پُرجوش خیرمقدم کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال کے آخر میں ٹرمپ کو اسرائیل کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز سے نوازا جائے گا۔
