شرم الشیخ: بین الاقوامی میڈیا کے مطابق حماس اور اسرائیل نے امن معاہدے کے پہلے مرحلے پر عملدرآمد پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے بعد جنگ بندی معاہدہ نافذ ہوگیا ہے۔ مبصرین اس پیش رفت کو غزہ میں دو سال سے جاری انسانی المیے کے خاتمے کی سمت پہلا بڑا قدم قرار دے رہے ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر مقدمہ درج نہ کیا جائے صرف جرمانہ کیا جائے
شرم الشیخ میں ہونے والے مذاکرات میں سعودی عرب، قطر اور مصر کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔ حماس نے معاہدے کے پہلے مرحلے پر فوری عملدرآمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے تحت 20 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے 2 ہزار فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ میں فوری امداد کی فراہمی اور اسرائیلی فورسز کے انخلا پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
عالمی ذرائع کے مطابق اس معاہدے کو غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ اور ثالثی نے فریقین کو معاہدے پر آمادہ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ پاکستان سمیت آٹھ بڑے مسلم ممالک کی سفارتی کوششیں بھی اس عمل کا حصہ رہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ پیش رفت ایک اہم سنگِ میل ہے، تاہم پائیدار امن اسی وقت ممکن ہوگا جب فلسطینی عوام کو آزاد اور خودمختار ریاست کا حق دیا جائے گا۔
