شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں پولیس کی وردی میں ملبوس اہلکاروں کی شہریوں سے کھلم کھلا لوٹ مار کی ویڈیو منظرِ عام پر آگئی۔ واقعے نے شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ پولیس عوام کی محافظ ہے یا خود لوٹیرے بن بیٹھی ہے۔
گھوٹکی میں فائرنگ صحافی طفیل رند جاں بحق وزیراعلیٰ سندھ کا نوٹس
عینی شاہد کے مطابق اہلکاروں نے پولیس موبائل کھڑی کر کے دن دہاڑے شہریوں کو روک کر پیسے طلب کیے۔ موبائل فون سے بنائی گئی فوٹیج میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اہلکار سڑک کنارے نوٹ گن رہے ہیں جبکہ پولیس موبائل کے اندر چار ہتھکڑی لگی ملزمان بھی موجود ہیں۔
فوٹیج میں وردی میں ملبوس اہلکار کی کوئی نیم پلیٹ نظر نہیں آتی۔ ایک اہلکار نے شہری کو ٹرک ڈرائیور کے ساتھ بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ "ٹرک ڈرائیور ایزی پیسہ سے پیسے نکال کر لائے گا اور ہمیں دے گا۔” شہری کے انکار پر اہلکار نے طنزیہ انداز میں کہا، "بچہ آجائے گا تو بھی خرچہ پانی دینا پڑے گا۔”
ویڈیو بنانے پر اہلکار گھبرا گئے اور موقع سے بھاگ نکلے۔ شہریوں کے مطابق پولیس موبائل دھکا اسٹارٹ کی گئی اور اہلکار فرار ہو گئے۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ تین ہفتوں سے یہی پولیس موبائل مختلف ناموں کے ساتھ علاقے میں کھڑی ہو کر لوگوں سے پیسے بٹورتی ہے۔ کبھی اس پر سی آئی اے اور کبھی اے سی ایل سی کی تحریر لکھی ہوتی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ "پولیس کا کام عوام کو تحفظ دینا ہے، مگر وردی میں موجود یہ اہلکار الٹا شہریوں کو لوٹ رہے ہیں۔ ایسے واقعات نے پولیس پر سے عوام کا اعتماد ختم کر دیا ہے۔”
شہریوں نے آئی جی سندھ اور ایڈیشنل آئی جی سے فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان اہلکاروں کو نہ روکا گیا تو عوام کے لیے پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔
