وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری اور متعلقہ افسران شریک ہوئے۔ اجلاس میں 35 نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
رینجرز سندھ کی بڑی کارروائی لانڈھی و ابراہیم حیدری سے گٹکا ماوا فروش گرفتار
گندم اجرا پالیسی
سندھ کابینہ نے گندم اجرا پالیسی 2025-26ء کی منظوری دیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ آٹے کی قیمتوں میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے 1.265 ملین میٹرک ٹن گندم فلور ملز اور چکیوں کو فراہم کی جائے گی۔ فی 100 کلو بوری گندم 9500 روپے کے نرخ پر دی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا اور ذخیرہ اندوزی ہرگز برداشت نہیں ہوگی۔
سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (SEDF)
کابینہ نے ایس ای ڈی ایف بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ازسرِ نو تشکیل کی منظوری دی۔ نیا بورڈ صوبے میں سرمایہ کاری، کاروبار اور روزگار کے فروغ میں کردار ادا کرے گا۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی بورڈ
سندھ آئی ٹی کمپنی کے بورڈ میں تبدیلی کی منظوری دی گئی۔ آزاد ڈائریکٹر عزیر باوانی کا استعفیٰ منظور جبکہ نعیم زمیدار کو نیا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔
سندھ سینئر سٹیزن کونسل
کابینہ نے کونسل کی تیسری مدت کے لیے تشکیل نو کی منظوری دی۔ کونسل بزرگ شہریوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات تجویز کرے گی۔
آغوش اسپیشل چلڈرن اسکول
کابینہ نے آغوش اسپیشل چلڈرن اسکول (گلشن حدید) کا کنٹرول پاکستان اسٹیل ملز سے سندھ حکومت کو منتقل کرنے کی منظوری دی۔ اس اسکول میں 252 خصوصی بچے زیر تعلیم ہیں۔ کابینہ نے اسکول کے اخراجات کے لیے 5 کروڑ 34 لاکھ روپے مختص کیے۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ خصوصی بچوں کی تعلیم میں کسی قسم کا خلل نہ آئے۔
لیفٹ بینک آؤٹ فال ڈرین (LBOD) ملازمین
کابینہ نے ایل بی او ڈی منصوبے کے 78 عارضی ملازمین کو مستقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے پر سندھ ہائی کورٹ میرپورخاص بینچ کی ہدایات کے مطابق عملدرآمد ہوگا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ کابینہ کے تمام فیصلے عوامی ریلیف، روزگار کے فروغ اور فلاحی اقدامات کی عکاسی کرتے ہیں۔
