غزہ (انٹرنیشنل ڈیسک) — اسرائیلی فورسز نے غزہ کے لیے امداد لے جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا پر حملہ کرتے ہوئے سویڈن کی معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ، پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت 37 ممالک کے 200 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔ اس کارروائی کے بعد دنیا بھر میں احتجاج کی لہر دوڑ گئی ہے۔
پاکستان کو جونیئر ہاکی ورلڈکپ 2025 میں شرکت کی دعوت، فیصلہ حکومت کی ہدایت پر ہوگا
گلوبل صمود فلوٹیلا میں پاکستانی وفد کی قیادت سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کر رہے تھے، جنہیں اسرائیلی افواج نے جہاز پر چڑھائی کے دوران حراست میں لیا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پاک-فلسطین فورم نے بھی ان کی گرفتاری کی تصدیق کی۔
فلوٹیلا انتظامیہ کے مطابق اسرائیلی بحریہ نے اب تک 13 کشتیوں کو روک کر 201 افراد کو حراست میں لیا ہے، جن میں اسپین، اٹلی، ترکی اور ملائیشیا کے درجنوں کارکن شامل ہیں۔ تاہم ترجمان سیف ابو کشیک کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے باوجود مشن جاری ہے اور تقریباً 30 جہاز اب بھی غزہ کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
اسرائیل کی اس کارروائی کے خلاف اٹلی، یونان، اسپین، برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ استنبول میں اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے بھی ہزاروں افراد نے نعرے بازی کی، جب کہ پاکستان میں اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی گئی ہے۔
ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ گرفتار کارکن ’محفوظ اور صحت مند‘ ہیں اور انہیں جلد یورپی ممالک ڈی پورٹ کردیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ بحری کمانڈوز نے کم از کم 21 کشتیوں کو بحفاظت روک لیا ہے۔
خیال رہے کہ فلوٹیلا کا مقصد غزہ پر جاری محاصرہ توڑ کر انسانی ہمدردی کی امداد پہنچانا ہے۔ اس مشن میں دنیا بھر سے درجنوں جہاز شریک ہیں۔
