پیپلز پارٹی کے سینیٹر سید وقار مہدی نے سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبہ سندھ میں جاری ترقیاتی کاموں اور کراچی کے منصوبوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
سندھ حکومت اور یونیسکو کا ثقافتی ورثے اور سیاحت کے فروغ پر مشترکہ تعاون پر اتفاق
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے محکمہ پی ڈبلیو ڈی کو تحلیل کرنے اور اس کی تمام ذمہ داریاں صوبائی حکومتوں کو منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سندھ کے سوا باقی صوبوں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔
سینیٹر وقار مہدی نے کہا کہ گرین لائن منصوبہ سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں شروع ہوا، لیکن عمران خان کے دورِ حکومت میں اس پر کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔ بعد ازاں وفاقی حکومت نے اس منصوبے کو دوبارہ فعال کیا۔
کراچی کے ترقیاتی منصوبوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں، مگر ایم کیو ایم نے شہر میں تین بار میئر شپ سنبھالی، اس کے باوجود کراچی کی حالت بہتر نہ ہو سکی۔ ایم کیو ایم ہر دورِ حکومت — خواہ وہ پیپلز پارٹی کا ہو، وفاقی حکومت کا یا عمران خان کا — کا حصہ رہی ہے، لیکن اس نے صرف وعدے کیے اور کراچی کے لیے عملی اقدامات نہ کیے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی میں کئی ترقیاتی منصوبے شروع کیے اور انہیں پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ وفاقی حکومت نے K-4 منصوبے کے لیے صرف 3 ارب روپے مختص کیے، اس کے باوجود ایم کیو ایم نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
وقار مہدی نے زور دیا کہ کراچی ہم سب کا ہے اور اس کی ترقی کے لیے تمام جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1990 سے شہر کو مسلسل نظرانداز کیا گیا، لیکن پیپلز پارٹی کراچی کی تعمیر نو اور اس کی رونقیں بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
