قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حالیہ بیان پر گہرا دکھ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "ہمیں وزارتیں یا عہدے نہیں چاہئیں، لیکن کم از کم عزت تو دی جاسکتی ہے۔” انہوں نے کہا کہ ہم حکومت کو سہارا دینے کا طعنہ برداشت کر رہے ہیں، مگر اگر یہی حالات رہے تو اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے پر مجبور ہوں گے۔
کوئٹہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ ناکام 6 دہشت گرد ہلاک 10 شہری جاں بحق 32 زخمی
قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر ایاز صادق نے کی۔ اس دوران نوید قمر نے کہا کہ ملک اس وقت شدید سیلابی صورتحال سے گزر رہا ہے، میرے حلقے میں بھی لوگ ریلیف کے منتظر ہیں لیکن قیادت کی جانب سے ملنے والے بیانات حوصلہ شکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "بلاول بھٹو نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور حکومت کی تعریف کی، مگر وزیراعلیٰ کی تقریر پر ہمیں دکھ ہوا۔ ہمیں کوئی فیس نہیں ملی کہ ہم حکومتی بینچز پر بیٹھے ہیں۔”
اپوزیشن ارکان نے طنزیہ طور پر کہا کہ "بالکل آپ اپوزیشن بینچز پر آ جائیں، ہمت کریں۔” جس پر نوید قمر نے جواب دیا کہ "وہ وقت دور نہیں جب ہم یہاں بیٹھیں گے۔” ان کے اس بیان پر پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے ارکان نے ڈیسک بجائے۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے، اپوزیشن خوش نہ ہو۔ تاہم بعد ازاں انہوں نے پیپلز پارٹی کے ارکان سے معذرت بھی کی۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں معذرت خواہ ہوں، سیاست میں گرما گرمی چلتی رہتی ہے، یہ گھر کا معاملہ ہے جو گھر میں ہی حل ہوگا۔”
یاد رہے کہ سیلاب متاثرین کے حوالے سے پیپلز پارٹی نے وزیراعظم سے عالمی امداد کی اپیل کرنے اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے متاثرین کی مدد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے فیصل آباد میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ "مجھے عوام کی خدمت کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں، ہر مسئلے کا حل صرف بی آئی ایس پی نہیں ہے، بھیک مانگنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔”
انہوں نے مزید کہا تھا کہ "پنجاب اگر اپنے حصے کی نہریں نکالنا چاہتا ہے تو دوسروں کو کیا تکلیف ہے؟ اب سیلاب متاثرین کی مدد پر بھی اعتراض ہو رہا ہے، پنجاب کے عوام کو ان کا حق دینے کے لیے کسی سے اجازت کی ضرورت نہیں۔”
