بیجنگ: چین کے دارالحکومت بیجنگ میں پاک–چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی 14ویں جائنٹ کوآپریشن کمیٹی (جے سی سی) کا آغاز ہوگیا، جس میں پاکستان اور چین کے وزراء، متعلقہ وزارتوں کے حکام اور شعبہ جاتی ماہرین شریک ہیں۔ اجلاس کی مشترکہ صدارت پاکستان اور چین کے وزراء منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
ڈسٹرکٹ ایسٹ پولیس کی کامیاب کارروائیاں، 15 ملزمان گرفتار، اسلحہ، منشیات اور گٹکا ماوا برآمد
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی ہیں اور باہمی اعتماد و مشترکہ تقدیر میں بندھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک فیز ٹو عوامی اور نوجوانوں پر مبنی ترقی کا نیا دور ثابت ہوگا، جس کے تحت زرعی اصلاحات، الیکٹرک گاڑیوں کے منصوبے، انویشن سینٹرز اور نوجوانوں کے لیے 10 ہزار پی ایچ ڈی اسکالرشپس شامل ہیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ فیز ون کے دوران 8000 میگاواٹ بجلی، 888 کلومیٹر شاہراہیں اور گوادر کی ترقی کے منصوبے مکمل ہوئے۔ گوادر اب ایک ماہی گیر قصبے سے پاکستان کا میری ٹائم گیٹ وے بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایل-1 کی جدید کاری سے ریلوے کے نظام کو نئی جان ملے گی۔
وزیر منصوبہ بندی نے کہا کہ سی پیک کے پانچ کوریڈورز—گروتھ، انویشن، گرین، لائیولی ہُڈ اور علاقائی روابط—پاکستان کو خطے میں تجارتی مرکز بنائیں گے۔ پاکستان–چین ڈیجیٹل سلک روڈ کے تحت 5G، فائبر اور ڈیٹا سینٹرز قائم ہوں گے جبکہ مشترکہ AI اور کوانٹم لیبارٹریز بھی قائم کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان 2030 تک 60 فیصد صاف توانائی حاصل کرے گا، گلگت بلتستان میں 300 میگاواٹ سولر منصوبے سے روزانہ 18 سے 20 گھنٹے لوڈشیڈنگ ختم ہوگی۔ چاغی سے گوادر تک مائننگ کوریڈور اور خنجراب، طورخم و گوادر میں بارڈر مارکیٹس تجارت کے نئے مواقع فراہم کریں گی۔
احسن اقبال نے زور دیا کہ سی پیک اب حکومت سے حکومت کے بجائے کاروبار سے کاروبار تعلقات پر مبنی ہوگا اور پاکستان سی پیک منصوبوں کے ساتھ ساتھ چینی عملے کی حفاظت کو بھی اولین ترجیح دیتا ہے۔
