کراچی (اسٹاف رپورٹ) اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرتضیٰ وہاب تہذیب کا دامن چھوڑ کر اپنی اصلیت ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ناکامیاں جماعت اسلامی پر تنقید کرکے نہیں چھپا سکتے۔
کل 1275 ارب روپے کے قرض معاہدے پر دستخط، پاور سیکٹر کے گردشی قرضے کم کرنے کی کوشش
سیف الدین نے کہا کہ کراچی کے شہری پیپلز پارٹی سے نجات کی دعائیں کر رہے ہیں جبکہ شہر کی تباہی میں مرتضیٰ وہاب کا بڑا حصہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرتضیٰ وہاب حب نہر اور شاہراہ بھٹو میں کرپشن کا جواب دینے کے بجائے الزام تراشی میں مصروف ہیں۔
اپوزیشن لیڈر کے مطابق 9 ٹاؤنز کو OZT وفاقی حکومت دیتی ہے جو ملازمین کی تنخواہوں پر خرچ ہوتی ہے، مگر صوبائی حکومت کسی ٹاؤن یا یوسی کو ترقیاتی فنڈ نہیں دیتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے کسی ٹاؤن میں ایک روپے کا اضافی ٹیکس جمع نہیں کیا، ناجائز ٹیکسوں میں اضافہ پیپلز پارٹی کا شیوہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باغ ابن قاسم کی زمین ایکڑوں کے حساب سے قبضہ کی گئی، جبکہ پارکوں میں کمرشل سرگرمیوں کے نام پر دھندہ “سسٹم” کے آشیرباد سے چل رہا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ کا واضح حکم ہے کہ میونسپل ٹیکس میں اضافہ صرف کونسل کی منظوری سے ممکن ہے، مگر بجٹ میں خاموشی سے اضافہ کیا گیا جو غیر قانونی ہے۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے الزام لگایا کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کرپشن کا گڑھ بن چکی ہے، ٹینڈرز پر 70 فیصد کرپشن ریٹ چل رہا ہے، مگر انہیں SAP پر نہیں ڈالا گیا۔ انہوں نے کے ایم سی اور سندھ حکومت کے تمام منصوبوں کا فارنزک آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے کراچی کے 3560 ارب روپے ہڑپ کر لیے ہیں، مرتضیٰ وہاب کراچی میں پانی، سیوریج اور کچرے کی بدترین صورتحال کا جواب دیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یونیورسٹی روڈ، کریم آباد انڈر پاس اور دیگر سڑکیں کب مکمل ہوں گی اور کے ایم سی کی بنائی ہوئی سڑکیں دوسرے دن ہی کیوں ٹوٹ جاتی ہیں؟
سیف الدین نے کہا کہ اہل کراچی کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور پیپلز پارٹی کی کرپشن کے خلاف بھرپور تعاقب کیا جائے گا۔
