پاکستان میں سیلاب ’’شدید انسانی بحران‘‘، 60 لاکھ متاثر، 25 لاکھ بے گھر، اقوام متحدہ کی عالمی امداد کی اپیل

اسلام آباد: اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے 60 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ 25 لاکھ سے زائد بے گھر ہوچکے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال کو ’’شدید انسانی بحران‘‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے فوری امداد کی اپیل کی ہے۔

یمن کے ساحل پر سب میرین کیبل کٹنے سے پاکستان میں انٹرنیٹ سست، بحالی میں 5 ہفتے لگ سکتے ہیں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے) کے سربراہ کارلوس گیہا نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں آنے والے سیلاب نے مقامی آبادی کو بےیار و مددگار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ صرف آغاز ہے، اصل تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق جون کے آخر سے شروع ہونے والی شدید بارشوں کے باعث اب تک ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہوئے جن میں 250 بچے شامل ہیں۔ سیلاب نے سب سے زیادہ تباہی پنجاب میں مچائی جہاں بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے بعد 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے، کئی گاؤں زیرِ آب آگئے، سڑکیں اور پل تباہ ہوئے اور 2.2 ملین ہیکٹر زرعی زمین ڈوب گئی۔ گندم کے آٹے کی قیمت میں صرف ستمبر کے پہلے ہفتے میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔

اقوام متحدہ نے ہنگامی طور پر 5 ملین ڈالر جاری کیے ہیں جبکہ مزید 1.5 ملین ڈالر مقامی این جی اوز کو دیے گئے ہیں۔ تاہم متعدد دیہی علاقے اب بھی کٹے ہوئے ہیں جہاں امداد صرف کشتیوں یا ہیلی کاپٹروں سے پہنچائی جا سکتی ہے۔

کارلوس گیہا نے خبردار کیا کہ سیلاب کے بعد ملیریا، ڈینگی اور ہیضے جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے جبکہ پانی، خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی اشد ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل چیلنج متاثرین کی بحالی اور دوبارہ زندگی کی طرف لانے کا ہوگا۔

انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ یہ تباہی پاکستان کی اپنی نہیں بلکہ ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہے جس کی ذمہ داری ان ممالک پر عائد ہوتی ہے جو سب سے زیادہ آلودگی پھیلاتے ہیں۔

One thought on “پاکستان میں سیلاب ’’شدید انسانی بحران‘‘، 60 لاکھ متاثر، 25 لاکھ بے گھر، اقوام متحدہ کی عالمی امداد کی اپیل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!