وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر قیادت وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی میں کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، کمشنر کراچی حسن نقوی، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو خالد حیدر شاہ، سیکریٹری بلدیات وسیم شمشاد، ایڈیشنل آئی جی آزاد خان، سی او او واٹر بورڈ اسداللہ خان سمیت دیگر اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
Tuesday, 16th September 2025
وزیراعلیٰ سندھ کو وزیر داخلہ اور آئی جی پولیس نے کچے کے علاقوں میں جاری آپریشن پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اکتوبر 2024ء سے ٹیکنالوجی کے ذریعے آپریشن کو تیز کیا گیا ہے۔ اب تک 760 ٹارگٹڈ اور 352 سرچ آپریشن کیے جا چکے ہیں۔ ان کارروائیوں میں 159 ڈاکو مارے گئے جن میں شکارپور کے 89، کشمور کے 46، گھوٹکی کے 14 اور سکھر کے 10 شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 823 ڈاکوؤں کو گرفتار جبکہ 8 اشتہاری ڈاکو مارے گئے۔
آپریشن کے دوران 962 مختلف نوعیت کے ہتھیار برآمد کیے گئے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ ڈاکوؤں کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن مزید تیز کیے جائیں اور ہر صورت ان کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کچے کے علاقوں میں ترقیاتی کاموں کی بھی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، ڈسپنسریوں اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سیلاب کے بعد بحالی کے عمل کو تیز کیا جا سکے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ گھوٹکی-کندھ کوٹ پل کی تعمیر کے بعد پورے علاقے میں معاشی سرگرمیاں بحال ہوں گی۔
دوسری جانب اجلاس میں شہر کراچی کے واٹر بورڈ اور غیرقانونی ہائیڈرینٹس کے معاملات پر بھی بریفنگ دی گئی۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ اب تک 243 غیرقانونی ہائیڈرینٹس مسمار کیے گئے، 212 ایف آئی آر درج ہوئیں اور 103 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ اس وقت 3200 ٹینکرز کو کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹرڈ کیا گیا ہے جس سے واٹر بورڈ کی آمدنی میں 60 ملین روپے کا اضافہ ہوا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کی اولین ترجیح امن و امان کا قیام اور عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے۔
