پنجاب کے تمام دریاؤں کا پانی سندھ میں شامل ہونے کے بعد دریائے سندھ میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلابی ریلا پہنچ گیا۔
ہیڈ پنجند پر پانی کی سطح میں کمی، ریسکیو 1122 نے مریضہ کی جان بچالی
محکمہ آبپاشی کے مطابق گڈو بیراج پر پانی کی آمد 6 لاکھ 12 ہزار 269 کیوسک جبکہ اخراج 5 لاکھ 82 ہزار 942 کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر نشیبی علاقوں کے لیے وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔
سیلابی پانی کے باعث کندھکوٹ کے کچے کے تمام علاقے زیر آب آگئے ہیں جبکہ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں۔
ادھر پاک بحریہ کی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں کشمور، گھوٹکی، سکھر اور شکارپور میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ یہ ٹیمیں ہوورکرافٹ، ریسکیو بوٹس اور ماہر غوطہ خوروں سے لیس ہیں اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔