ٹھٹہ: 133 سال پرانا جنگشاہی پرائمری اسکول خستہ حالی کا شکار، طلبہ کی زندگیاں خطرے میں

ٹھٹہ (اسٹاف رپورٹر) ضلع ٹھٹہ کے کوہستانی شہر جنگشاہی میں واقع تاریخی گورنمنٹ بوائز پرائمری اسکول، جو 1892ء میں قائم کیا گیا تھا، شدید خستہ حالی کا شکار ہوگیا ہے۔ 133 سال پرانی اس درسگاہ کی عمارت کی زبوں حالی طلبہ اور اساتذہ کے لیے جان لیوا خطرہ بن چکی ہے اور کسی بڑے سانحے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔

ڈی جی رینجرز سندھ کی مزارِ قائد پر حاضری، پھولوں کی چادر چڑھائی

مقامی سماجی رہنماؤں، والدین اور رہائشیوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسکول کی چھتوں اور دیواروں سے روزانہ ملبہ اور چونا جھڑنا معمول بن چکا ہے، جس سے معصوم طلبہ خوف میں مبتلا رہتے ہیں اور تعلیمی عمل بری طرح متاثر ہورہا ہے۔

اہلِ علاقہ کا کہنا ہے کہ اگر اسکول کی بروقت مرمت اور بحالی نہ کی گئی تو قیمتی جانوں کے ضیاع کا اندیشہ ہے۔ والدین اور مقامی افراد نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب اسسٹنٹ انجینئر ایجوکیشن ورکس سب ڈویژن ٹھٹہ نے اسکول کا تفصیلی معائنہ کرکے اپنی رپورٹ اعلیٰ حکام کو ارسال کردی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ جی بی پی ایس جنگشاہی کے بلاک "اے” اور بلاک "بی” کی عمارتیں نہایت خستہ حال اور خطرناک ہیں۔

رپورٹ میں ہیڈ ماسٹر کو ہدایت دی گئی ہے کہ عمارت فی الفور خالی کروائی جائے اور تعلیمی سرگرمیوں کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے تاکہ جانی نقصان سے بچا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی ایکزیکٹیو انجینئر ایجوکیشن ورکس ڈویژن ٹھٹہ اور تعلقہ ایجوکیشن آفیسر پرائمری کو بھی ہنگامی اقدامات کے لیے آگاہ کردیا گیا ہے تاکہ مرمت و بحالی کا عمل جلد شروع ہوسکے۔

61 / 100 SEO Score

One thought on “ٹھٹہ: 133 سال پرانا جنگشاہی پرائمری اسکول خستہ حالی کا شکار، طلبہ کی زندگیاں خطرے میں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Don`t copy text!