تشکُّر نیوز رپورٹنگ،
اسلام آباد ہائیکورٹ نے لطیف کھوسہ کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سے متعلق بات کرنے سے روک دیا
اسلام آباد ( 17 جنوری 2024ء ) اسلام آباد ہائیکورٹ نے توشہ خانہ اور القادرٹرسٹ کیس ریفرنسزمیں سابق وزیراعظم عمران خان کی درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے ڈویژن بینچ کی تشکیل کے لیے فائل چیف جسٹس کو بھجوا دی۔
تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی عمران خان نے توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ نیب کیس میں جیل ٹرائل کو چیلنج کرتے ہوئے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں، ان درخواستوں پر آج جسٹس میاں گل حسن نے سماعت کی جہاں ان کی عدالت میں بانی چیئرمین تحریک انصاف کی جانب سے لطیف کھوسہ اورشعیب شاہین عدالت پیش میں پیش ہوئے۔اس موقع پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ ’لگتا ہے یہ کیس غلطی سے اس کورٹ میں آگیا ہے کیوں کہ یہ ڈویژن بینچ کا کیس ہے، اس کیس میں نیب خود ایک پارٹی ہے اگر کوئی ملازم ہوتا تو تب یہ کیس اس عدالت کا بنتا تھا‘، جس پر عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ’جج محمد بشیرکی خاصیت ہے ان کے پاس سب کے کیسز لگے‘، لطیف کھوسہ کی اس بات پر عدالت نے عمران خان کے وکیل کو جج محمد بشیر سے متعلق بات کرنے سے روک دیا۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس میں کہا کہ ’جج محمد بشیرکی بات نہ کریں، وہ بار بار میری سفارش پر تعینات ہوئے ہیں، کیس کو دوبارہ مقرر کرنے کے لیے فائل چیف جسٹس کوبھجوا دیتے ہیں‘، اس کے ساتھ ہی عدالت کی جانب سے دونوں مقدمات میں جیل ٹرائل کے خلاف عمران خان کی اپیلوں پرڈویژن بینچ بنانے کیلئے فائل چیف جسٹس کوبھجوا دی گئی۔ خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ کیس کا جیل ٹرائل چیلنج کیا گیا ہے، عمران خان نے جیل ٹرائل کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے، اس حوالے سے بانی چیئرمین تحریک انصاف نے جیل ٹرائل کے دونوں نوٹی فکیشنز کے خلاف درخواست دائر کی، جس میں کہا گیا ہے کہ القادر ٹرسٹ کیس میں 14 نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، توشہ خانہ کیس میں 28 نومبر کو جیل ٹرائل کا نوٹیفکیشن جاری ہوا، جیل ٹرائل کے نوٹی فکیشن غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہیں۔
