اسلام آباد (اسٹاف رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کی جدید ٹیکنالوجی اور طریقہ کار پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے انتہائی سودمند ثابت ہوں گے۔ وہ تیانجن یونیورسٹی میں نیشنل ارتھ کوئیک سمولیشن سینٹر کے دورے کے موقع پر گفتگو کر رہے تھے۔
مدعی نے کیس واپس لے لیا، سعید غنی کے بھائی فرحان غنی سمیت تینوں ملزمان رہا
وزیراعظم نے چینی ماہرین کی مہارت اور جدید سسٹمز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کے استعمال سے پاکستان میں مؤثر احتیاطی تدابیر اور لائحہ عمل اختیار کیا جا سکے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور چین کے جوائنٹ لیب جیسے منصوبوں کو مزید فعال بنایا جائے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ حالیہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پاکستان بھر میں قومی سطح پر بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں، اس سلسلے میں چین کے ساتھ شراکت داری مزید وسعت دی جائے گی۔
بعدازاں تیانجن یونیورسٹی میں فیکلٹی اور طلبا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ یہ ادارہ علم و دانش کا بہترین مرکز ہے، جہاں 200 سے زائد پاکستانی طلبا زیرتعلیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر 30 ہزار پاکستانی طلبا مختلف چینی جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور یہ سب پاکستان کے سفیر ہیں جو پاک چین دوستی کو مزید فروغ دے رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اُتری ہے اور کوئی طاقت اس تعلق کو ختم نہیں کر سکتی۔ پاکستان چین کے ترقیاتی ماڈل سے سیکھنے کا خواہاں ہے اور صدر شی جن پنگ کے وژن کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین آج دنیا کی بڑی معاشی اور فوجی طاقت بن چکا ہے اور پاکستان کو اس پر فخر ہے۔
