کراچی (اسٹاف رپورٹر) ناظم آباد بلاک ایک سے پانچ تک تعینات پوسٹ بی آئی ندیم اختر کے خلاف عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ندیم اختر ماضی میں ایک کالعدم تنظیم سے وابستہ رہا ہے اور حالیہ دنوں میں اپنے سرکاری اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رہا ہے۔
کراچی: غیر قانونی اسلحہ کیس میں عزیر بلوچ بری، عدالت نے رہائی کا حکم دے دیا
چند روز قبل ناظم آباد کے شہریوں نے اس کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر بھی درج کرائی، تاہم تاحال کسی قسم کی عملی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ ندیم اختر کا دعویٰ ہے کہ وہ ڈائریکٹر سینٹرل ضیاء ایس بی سے اے کے ذاتی تعلقات کی بنیاد پر اپنی مرضی کے فیصلے کرتا ہے اور اکثر ان کے گھر جا کر ’’معاملات طے‘‘ کرتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ندیم اختر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف محض کاسمیٹک ڈیمولیشن کر کے دکھاوا کرتا ہے جبکہ اصل مافیا کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اس رویے نے نہ صرف ادارے کی ساکھ کو متاثر کیا ہے بلکہ ڈپٹی کمشنر سینٹرل اور دیگر حکام کی کاوشوں کو بھی سبوتاژ کیا ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر بلدیات اور ڈی جی بلڈنگ کنٹرول شاہ میر بھٹو سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن کو ہدایت دی جائے کہ وہ اس افسر کے خلاف سخت کارروائی کرے تاکہ علاقے میں قانون کی بالادستی یقینی بنائی جا سکے۔
